🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى، قَالَ: أَيَّةُ آيَةٍ؟ قُلْتُ: إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ، غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا، وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا، يَعْنِي، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا، إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا، وَبِمَا نَعْمَلُ، فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا"، قالوا: سَمِعْنا وأَطَعْنا. قَالَ: فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 285 - 286، فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ، وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ.
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ابوالعباس! میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، وہ یہ آیت پڑھ کر رونے لگے، انہوں نے پوچھا کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: «‏‏‏‏ ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ﴾ [البقرة: 284] » تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شدید غم و پریشانی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہماری باتوں اور ہمارے اعمال پر مواخذہ ہو تو ہم ہلاک ہو جاتے ہیں، ہمارے دل تو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہی کہو کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حکم نبوی کی تعمیل میں کہنے لگے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، بعد میں یہ حکم اگلی آیت: « ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا . . . . .﴾ [البقرة: 286] » اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، . . . . . نے منسوخ کر دیا اور دل میں آنے والے وسوسوں سے در گزر کر لی گئی اور صرف اعمال پر مواخذہ کا دار و مدار قرار دے دیا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3070]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥حميد بن قيس الأعرج، أبو صفوان، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن قيس الأعرج ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← حميد بن قيس الأعرج
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ