الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، أُرَاهُ عَنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ ابْنَهُ عَمْدًا، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ: ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً، وَقَالَ: لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ" لَقَتَلْتُكَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر مار ڈالا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو انہوں نے اس پر سو اونٹ دیت واجب قرار دی، تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس ثنیے یعنی جو دوسرے سال میں لگے ہوں اور فرمایا: قاتل وارث نہیں ہوتا اور اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ باپ کو بیٹے کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 346]
حکم دارالسلام: حديث حسن، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد توبع
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمرو السهمي ← عمر بن الخطاب العدوي