یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 3606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَبَعْضُ الْحَدِيثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ"، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ:" إِنَّنِي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي" فَقَرَأْتُ، حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ: رَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ دُمُوعًا.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے، فرمایا: ”ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں“، چنانچہ میں نے تلاوت شروع کر دی اور جب میں اس آیت پر پہنچا: « ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] » ”وہ کیسا وقت ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے“، تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3606]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3606 in Urdu
مسلم بن صبيح الهمداني ← عبد الله بن مسعود