مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 4377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ عَلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا لَيْلَةَ الْحَيَّةِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا، خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنَ الْجَبَلِ،" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا، فَطَلَبْنَاهَا، فَأَعْجَزَتْنَا، فَقَالَ: دَعُوهَا عَنْكُمْ، فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات کا نزول سانپ والی رات میں ہوا تھا، ہم نے ان سے پوچھا کہ سانپ والی رات سے کیا مرا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غار حراء میں تھے کہ اچانک ایک سانپ پہاڑ سے نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4377]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود