مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 4378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: وَقَفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ يَدَيْ الْجَمْرَةِ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَوْقِفُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَوْمَ رَمَاهَا، قَالَ: ثُمَّ" رَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ رَمَى بِهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ".
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جمرہ عقبہ کے سامنے پہنچ کر کھڑا ہو گیا، انہوں نے وہاں کھڑے ہو کر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسی جگہ وہ ذات کھڑی ہوئی تھی جس پر رمی کرتے ہوئے سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے، پھر واپس لوٹ گئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4378]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود