مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 4701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ:" إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو حالانکہ اللہ کی قسم! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4701]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4250
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن دينار القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة |
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي