مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 5571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے، لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ فرمایا نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5571]
حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سالم بن رزين .
الرواة الحديث:
سعيد بن المسيب القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي