🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1006
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا" قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ غَيْرِي: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةٍ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا" وَهَذَا أَحْسَنُ، وَأَمَّا الَّذِي حَفِظْتُ أَنَا الأَوَّلُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جمعے کے بعد چار رکعات ادا کریں۔ سفیان کہتے ہیں: دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: تم میں سے جس شخص نے جمعے کے بعد نماز ادا کرنی ہو، تو اسے چاہئے کہ چار رکعات ادا کرے۔ (راوی کہتے ہیں) یہ روایت زیادہ بہتر ہے، جو الفاظ میں نے یاد کئے ہیں وہ پہلے والے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 881، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1873، 1874، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2477، 2478، 2479، 2480، 2481، 2485، 2486، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1425، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 501، 1755، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1131، والترمذي فى «جامعه» برقم: 523، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1616، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1132، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6019، 6020، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7518، 9830، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5416»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1427
إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا
صحيح مسلم
2036
إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا
صحيح مسلم
2037
إذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا
صحيح مسلم
2038
من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا
جامع الترمذي
523
من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا
سنن أبي داود
1131
إذا صليتم الجمعة فصلوا بعدها أربعا
سنن ابن ماجه
1132
إذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا
مسندالحميدي
1006
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصلي بعد الجمعة أربعا
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1006 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1006
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہئیں، اور دو رکعت پڑھنا بھی درست ہے (صحیح البخاری: 895) جو میسر آ جائیں وہ پڑھ لی جائیں نفلی نماز کا گھر میں اہتمام کرنا افضل ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1005]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1427
نماز جمعہ کے بعد مسجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1427]
1427۔ اردو حاشیہ: حدیث میں مسجد میں پڑھنے کا ذکر نہیں۔ دراصل امام نسائی رحمہ اللہ احادیث میں تطبیق دے رہے ہیں کیونکہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 937، و صحیح مسلم، الجمعة، حدیث 882] مصنف رحمہ اللہ نے چار رکعت والی روایت کو مسجد سے خاص کر دیا اور دو رکعت والی کو گھر کے ساتھ کیونکہ اس میں گھر کا ذکر ہے، یعنی گھر میں آکر پڑھے تو دو رکعتیں اور مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں لیکن راجح بات یہ ہے کہ دو رکعت بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور چار بھی۔ واللہ أعلم۔ جبکہ بعض لوگ قولی و فعلی دونوں روایات پر عمل کے قائل ہیں، یعنی چار بھی پڑھ لے اور دو بھی، کل چھ ہو گئیں، لیکن یہ بات بلا دلیل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1427]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1131
فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1131]
1131. اردو حاشیہ:
یہ تلقین ترغیب اور استحباب کے لیے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1131]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1132
جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1132]
اردو حاشہ:
فائدہ:
معلوم ہوا کہ جمعے کی فرض نماز کے بعد دو رکعت سنت بھی اد ا کی جاسکتی ہے۔
اور چار رکعت بھی اور بعض نے ان دونوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے۔
کہ مسجد میں پڑھے تو چارسنتیں پڑھے۔ (دو دو کرکے یا بہ یک سلام)
اور گھر جا کر پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ (مرعاۃ)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1132]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2038
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: تم میں سے کوئی جب جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو چار رکعت پڑھے۔ جریر کی حدیث میں مِنكُم (تم میں سے) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2038]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہیے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی نظریہ ہے۔
امام اسحاق کا قول ہے مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے اور اگر گھر میں پڑھے تو دو پڑھ لے شاہ ولی اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کی سنتوں کو گھر میں پڑھنا افضل ہے دو پڑھ لے یا چار۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2038]

Musnad al-Humaydi Hadith 1006 in Urdu