یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1008
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلا يَخْرُجْنَ إِلا وَهُنَّ تَفِلاتٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو اور خواتین ایسی حالت میں نہ نکلیں کہ ان سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمره بن علقمة، وقد أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1679 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2214 وأبو داود فى «سننه» برقم: 565، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1315 1316 والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5460 وأحمد فى «مسنده» برقم: 9776 10287 10989 وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5915 5933 والبزار فى «مسنده» برقم: 8569 9262 وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5121 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7691 والطبراني فى «الأوسط» برقم: 568»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عمرو الليثي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
565
| لا تمنعوا إماء الله مساجد الله ليخرجن وهن تفلات |
مسندالحميدي |
1008
| لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، ولا يخرجن إلا وهن تفلات |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1008 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1008
فائدہ:
تقدم: 950، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتیں اگر مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے جانا چا ہیں اور وہ اجازت طلب کریں تو انھیں اجازت دے دینی چاہیے۔ موجودہ دور پرفتن ہے، جب کوئی عورت مسجد میں جانا چاہے تو اگر ممکن ہو سکے محرم ساتھ جائے اور مسجد میں چھوڑ کر واپس آ جائے، پھر نماز کے اختتام پر وہ خود جا کر گھر واپس لے آئے۔
تقدم: 950، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتیں اگر مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے جانا چا ہیں اور وہ اجازت طلب کریں تو انھیں اجازت دے دینی چاہیے۔ موجودہ دور پرفتن ہے، جب کوئی عورت مسجد میں جانا چاہے تو اگر ممکن ہو سکے محرم ساتھ جائے اور مسجد میں چھوڑ کر واپس آ جائے، پھر نماز کے اختتام پر وہ خود جا کر گھر واپس لے آئے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1007]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 565
عورتوں کے مسجد جانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 565]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 565]
565۔ اردو حاشیہ:
یہ عمل عورتوں کے لئے اپنے شوق پر مبنی ہے اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے۔ صحابیات آیا کرتی تھیں لیکن اس کے لئے ضرورری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔ جیسا کہ آئندہ کی مذید احادیث سے واضح ہے۔
یہ عمل عورتوں کے لئے اپنے شوق پر مبنی ہے اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے۔ صحابیات آیا کرتی تھیں لیکن اس کے لئے ضرورری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔ جیسا کہ آئندہ کی مذید احادیث سے واضح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 565]
Musnad al-Humaydi Hadith 1008 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي