🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(خلیل بنانے سے بری الذمہ ہونے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ غَيْرَ مَرَّةٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ لَخَلِيلُ اللَّهِ" , يَعْنِي: نَفْسَهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں ہر ساتھی کے ساتھ سے بری الذمہ ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا، تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن تمہارے آقا اللہ کے خلیل ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه مسلم 2383 وابن حبان فى ”صحيحه“برقم: 6426،6855، 6856 وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: برقم: 5149، 5180، 5249، 5308،5345»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عوف بن مالك الجشمي، أبو الأحوص
Newعوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← عوف بن مالك الجشمي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6176
أبرأ إلى كل خل من خله لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا صاحبكم خليل الله
صحيح مسلم
6175
لو كنت متخذا من أهل الأرض خليلا لاتخذت ابن أبي قحافة خليلا لكن صاحبكم خليل الله
صحيح مسلم
6174
لو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابن أبي قحافة خليلا
صحيح مسلم
6173
لو كنت متخذا من أمتي أحدا خليلا لاتخذت أبا بكر
صحيح مسلم
6172
لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا لكنه أخي وصاحبي اتخذ الله صاحبكم خليلا
جامع الترمذي
3655
أبرأ إلى كل خليل من خله لو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابن أبي قحافة خليلا صاحبكم خليل الله
سنن ابن ماجه
93
أبرأ إلى كل خليل من خلته لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا صاحبكم خليل الله
مسندالحميدي
113
أبرأ إلى كل خليل من خله، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، وإن صاحبكم لخليل الله
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 113 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:113
فائدہ:
اس حدیث سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبردست فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ خلیل کا معنی ہے: دلی دوست، خیر خواہ، ہمدرد۔ (الـقـامـوس الـوحـيـد: 471) مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں خلیل کے معنی ہیں کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اس طرح راسخ ہو جائے کہ کسی اور کے لیے اس میں جگہ نہ رہے خلیل بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے، جیسے علیم بمعنی عالم ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ بمعنی مفعول ہے، جیسے حبیب بمعنی محبوب ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام یقیناً اللہ تعالیٰ کے محب بھی تھے اور محبوب بھی۔ (فتـح الـقدير) (تفسیر احسن البیان: 267) محبت کے اعلی درجے کو الـخـلة کہتے ہیں، جس میں دنیا و مافیھا سے محبت نہیں ہوتی، بلکہ تمام محبت اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے، اور یہی وصف عظیم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھا، اور یہ درجہ محنت و اجتہاد سے نہیں ملتا، کیونکہ یہ کسبی نہیں ہے، بلکہ اس عظیم درجے پر اللہ تعالیٰ اس کو خاص کرتا ہے، جسے چاہتا ہے۔
یہ بھی ثابت ہوا کہ دنیا میں کوئی بھی کسی کا خلیل نہیں ہے۔ یہ فقط ہمارے پیارے پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، بالفاظ دیگر انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا» ‏‏‏‏ (النساء: 125) ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے صرف دو کو اپناخلیل بنایا ہے: ① سیدنا ابراہیم علیہ السلام ② سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل پکڑے ہیں، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے جلیل القدر صحابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپناخلیل بنانا چاہتے تھے، سبحان اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر اپنے یار غار کا تزکیہ بیان فرما رہے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 113]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث93
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! میں ہر خلیل (جگری دوست) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل (مخلص دوست ہے) ۱؎۔ وکیع کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 93]
اردو حاشہ: (1) (خلیل)
کا لفظ (خلت)
سے ماخوذ ہے۔
یہ محبت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے جس میں شراکت ممکن نہیں۔
اس سے کم درجے کی محبت ایک سے زیادہ افراد سے ممکن ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کا لفظ تو دوسروں کے لیے بھی فرمایا ہے، لیکن خلت کا اطلاق کسی اور پر نہیں حتی کہ سب سے افضل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے مقرب صحابی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی یہ مقام نہیں ملا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مقام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے۔
ارشاد نبوی ہے:
(إِنَّ اللهَ تَعاليٰ قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيْلًا‘ كَمِا إِتَّخَذَ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا) (صحيح مسلم، المساجد، باب النهي عن بناء المساجد علي القبور...الخ، حديث: 532)
 اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔

(2)
اس حدیث سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت ظاہر ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں محبت کے اعلیٰ ترین درجے کے قابل قرار دیا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 93]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3655
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر خلیل کی «خلت» (دوستی) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل (دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3655]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
(خُلّت) دوستی کی ایک خاص حالت ہے جس کے معنی ہیں دوست کی دوستی کا دل میں رچ بس جانا،
یہ محبت سے اعلی وارفع حالت ہے،
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا ابراہیم علیہ السلام نے یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کو دیا ہے،
رہی محبت کی بات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے صحابہ،
صدیقین وصالحین سے محبت ہے،
اور صحابہ میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا مقام سب سے افضل ہے،
حتی کہ ممکن ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرکو خلیل بنا لیتے،
یہ بات ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3655]