🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(شعبان کے نفلی روزوں اور تیرہ رکعات کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 173
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ , وَعَنْ صِيَامِهِ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ إِلا قَلِيلا، وَكَانَتْ صَلاتُهُ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے کہا: امی جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نفل نماز کے بارے میں بتائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے بارے میں بتائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نفلی روزے رکھتے رہیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نفلی روزے ترک کر دیتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نفلی روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی مہینے میں شعبان کے مہینے سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے صرف چند دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے نہیں رکھتے تھے اور رمضان میں اور غیر رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی جس میں فجر کی دو رکعات (سنت) بھی شامل ہوتی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 738، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 353، 1578، 2430، 2571، 2613، 2616،2634، 3516، 3637، 3648،6385، وأحمد فى ”مسنده“:، برقم: 24707، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4533،4633،4650، 4786، 4788، 4860»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن أبي لبيد المدني، أبو المغيرة
Newعبد الله بن أبي لبيد المدني ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي لبيد المدني
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
56
يوضع له وضوءه وسواكه فإذا قام من الليل تخلى ثم استاك
صحيح مسلم
1726
صلاته في شهر رمضان وغيره ثلاث عشرة ركعة بالليل منها ركعتا الفجر
صحيح مسلم
1727
صلاة رسول الله من الليل عشر ركعات ويوتر بسجدة ويركع ركعتي الفجر فتلك ثلاث عشرة ركعة
سنن أبي داود
1341
ما كان رسول الله يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا
مسندالحميدي
173
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول قد صام، ويفطر حتى نقول قد أفطر، وما رأيته صائما في شهر قط أكثر من صيامه في شعبان، كان يصومه كله، بل كان يصومه إلا قليلا، وكانت صلاته بالليل في رمضان وغيره ثلاث عشرة ركعة منها ركعتي الفجر
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 173 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:173
فائدہ:
نفلی روزوں کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، اور شعبان میں نفلی روزوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ رمضان اور غیر رمضان میں نماز تہجد، نماز تراویح گیارہ رکعات ہیں، وتروں سمیت، اور صبح کی سنتوں کو ساتھ ملائیں تو تیرہ رکعات بنتی ہیں، جس طرح کہ اس حدیث میں وضاحت ہے۔ یاد رہے نماز تراویح اور نماز تہجد ایک ہی ہیں۔ 20 رکعات تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین وغیرہ سے ثابت نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 173]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1341
تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ چار رکعتیں پڑھتے، ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1341]
1341. اردو حاشیہ: فوائد ومسائل:
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل دو دو رکعات اور چار چار رکعات دونوں طرح ثابت ہے۔ تاہم آپ کا اکثر معمول دودورکعت پڑھنے کا تھا۔
➋ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خصوصیت سے یہ بتانا کہ آپ رمضان اور غیر رمضان میں کبھی بھی گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھتے تھے، ان لوگوں پر تعرض ہے، جنہوں نے رمضان میں قیام اللیل کی رکعات میں اضافہ کرنا شروع کردیا تھا، مگر انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ کا قیام، رکوع اور سجود بھی بہت لمبا ہوتا تھا۔ اس لیے عاملین بالسنہ پر لازم ہے کہ دونوں امور کا اہتمام کیا کریں، عدد کا بھی اورکیفیت کا بھی۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ سونے سے بےوضو نہیں ہوتے تھے۔ اور نبی کا دل کسی بھی وقت غافل نہیں ہوتا کیونکہ وہ مہبط وحی ہوتا ہے۔ اور یہ سوال کہ آپ اور آپ کے صحابہ سفر میں فجر کی نماز کے وقت سوتے رہ گئے تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طلوع فجر کا تعلق آنکھ کے دیکھنے سے ہے نہ کہ دل کی معرفت سے۔
➍ حضرت عائشہ رضی للہ عنہا کے سوال جواب سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عام لوگوں کو وتروں سے پہلے نہیں سونا چاہیے کہ کہیں رہ نہ جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ خاص ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1341]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1727
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعات پڑھتے اور ایک وتر پڑھتے اور دو رکعت سنت فجر پڑھتے، یہ تیرہ رکعات ہوئیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1727]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان اور غیر رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یکساں تھا جو عام طور پر وتر سمیت گیارہ رکعات تھا ان میں کمی و بیشی کسی سبب یا عذر کی بنا پر ہوئی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1727]

Musnad al-Humaydi Hadith 173 in Urdu