مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(وتر کے لیے حرکت دینے اور رات کی نماز کی روایت)
حدیث نمبر: 177
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ حَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ، وَكَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلا اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ إِلَى الصَّلاةِ" , وَكَانَ سُفْيَانُ يَشُكُّ فِي حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ يَضْطَرِبُ فِيهِ، وَرُبَّمَا شَكَّ فِي حَدِيثِ زِيَادٍ، وَيَقُولُ: يَخْتَلِطُ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ لَنَا غَيْرَ مَرَّةٍ: حَدِيثُ أَبِي النَّضْرِ كَذَا، وَحَدِيثُ زِيَادٍ كَذَا، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ كَذَا عَلَى مَا ذَكَرْتُ كُلَّ ذَلِكَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نفل نماز ادا کیا کرتے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی کی سمت میں لیٹی ہوتی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وتر ادا کرنے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں کے ذریعہ مجھے حرکت دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات نماز ادا کرتے تھے اگر میں جاگ رہی ہوتی، تو میرے ساتھ بات چیت کر لیتے تھے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے تھے، پھر (تھوڑی دیر بعد) نماز (فجر باجماعت ادا کرنے کے لیے) تشریف لے جاتے تھے۔ سفیان نامی راوی نے نضر کے حوالے سے منقول روایت میں شک کا بھی اظہار کیا ہے اور اضطراب بھی ظاہر کیا ہے بعض اوقات وہ زیادہ سے بھی منقول روایت میں شک کا اظہار کر دیتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں: یہ روایت مجھ سے خلط ملط ہو گئی ہے، پھر انہوں نے کئی مرتبہ ہم سے یہ کہا: ابونظر کی حدیث اس طرح ہے، جبکہ زیادہ منقول روایت اس طرح ہے اور محمد بن عمرو کے حوالے سے منقول روایت اس طرح ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے میں نے ذکر کر دیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 177]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے میں نے ذکر کر دیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري 384، 512 ومسلم: 512، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 2341، 2342، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4490، 4491، 4820، 4888»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عمرو الليثي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
384
| معترضة بينه وبين القبلة على الفراش الذي ينامان عليه |
مسندالحميدي |
177
| كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاته من الليل وأنا معترضة بينه وبين القبلة، فإذا أراد أن يوتر حركني برجله، وكان يصلي الركعتين، فإن كنت مستيقظة حدثني، وإلا اضطجع حتى يقوم إلى الصلاة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 177 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:177
فائدہ:
اس حدیث سے نماز وتر کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ اگر معلوم ہو کہ فلاں سونے والے نے وتر نہیں پڑھے تو اس کو اذان فجر سے پہلے بیدار کر دینا چاہیے۔ بعض لوگ نماز وتر کو واجب کہتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ احادیث اس بات پر دلیل ہیں کہ وتر کو بندوں پر واجب قرار دینے والا ان پر چھ نمازیں واجب کر نے والا ہے۔ (صـحـيـح ابـن خـزيـمـه: 137/2) امام ابن حبان رحمہ اللہ نے دس احادیث سے استدلال کیا ہے کہ نماز وتر فرض نہیں ہے۔ وہ ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: وتر فرض نہیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند دن پہلے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انھیں بتلائیں: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ نے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وتر فرض ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی لوگوں کے لیے واضح کر دیتے۔ (صحیح ابن حبان: 5/65، 66)
اس حدیث سے نماز وتر کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ اگر معلوم ہو کہ فلاں سونے والے نے وتر نہیں پڑھے تو اس کو اذان فجر سے پہلے بیدار کر دینا چاہیے۔ بعض لوگ نماز وتر کو واجب کہتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ احادیث اس بات پر دلیل ہیں کہ وتر کو بندوں پر واجب قرار دینے والا ان پر چھ نمازیں واجب کر نے والا ہے۔ (صـحـيـح ابـن خـزيـمـه: 137/2) امام ابن حبان رحمہ اللہ نے دس احادیث سے استدلال کیا ہے کہ نماز وتر فرض نہیں ہے۔ وہ ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: وتر فرض نہیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند دن پہلے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انھیں بتلائیں: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ نے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وتر فرض ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی لوگوں کے لیے واضح کر دیتے۔ (صحیح ابن حبان: 5/65، 66)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 177]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 384
384. حضرت عروہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور حضرت عائشہ ؓ آپ کے اور قبلے کے درمیان اس بستر پر لیٹی رہتیں جس پر یہ دونوں سوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:384]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں مزید وضاحت آگئی کہ جس بستر پر آپ سویا کرتے تھے، اسی پر بعض دفعہ نماز بھی پڑھ لیتے۔
پس معلوم ہوا کہ سجدہ کے لیے زمین کی مٹی کا بطور شرط ہونا ضروری نہیں ہے۔
سجدہ بہرحال زمین ہی پر ہوتا ہے۔
اس لیے کہ وہ بستر یاچٹائی یا مصلّی پر بچھاہوا ہے
اس حدیث میں مزید وضاحت آگئی کہ جس بستر پر آپ سویا کرتے تھے، اسی پر بعض دفعہ نماز بھی پڑھ لیتے۔
پس معلوم ہوا کہ سجدہ کے لیے زمین کی مٹی کا بطور شرط ہونا ضروری نہیں ہے۔
سجدہ بہرحال زمین ہی پر ہوتا ہے۔
اس لیے کہ وہ بستر یاچٹائی یا مصلّی پر بچھاہوا ہے
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 384]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:384
384. حضرت عروہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور حضرت عائشہ ؓ آپ کے اور قبلے کے درمیان اس بستر پر لیٹی رہتیں جس پر یہ دونوں سوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:384]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں ثابت کیا ہے کہ جس طرح نماز زمین یا اس کی جنس پر درست ہے غیر جنس ارض پر بھی درست ہے، خواہ وہ بستر ہو یا کوئی فرش قطع نظر اس سے کہ وہ بہترین ہو یا گھٹیا، چونکہ بعض اسلاف سے ان پر نماز پڑھنے کا انکار ثابت ہے، وہ عمدہ قالین یا وہ بستر جس میں روئی زیادہ ہو ان پر نماز ادا کرنا مکروہ قراردیتے تھے۔
اس لیے امام بخاری ؒ نے یہ روایت لا کر ان کے موقف کی تردید كی ہے۔
نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
اگرچہ بعض حضرات تاویل کرتے ہیں کہ پاؤں کو دباتے وقت اس پر کپڑا ہوتا تھا، لیکن یہ تاویل بعید ہے۔
پہلی حدیث میں بستر پر نماز پڑھنے کی صراحت نہ تھی۔
اس لیے دوسری روایت پیش کی کہ آپ بستر پر نماز پڑھتے تھے۔
اگرچہ اُم المومنین عائشہ ؓ کے آگے لیٹنے میں اشارہ موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بستر پر نماز پڑھ رہے تھے، تاہم تیسری روایت میں اس کی بھی صراحت موجود ہے۔
مقصد یہ ہے کہ پیشانی زمین پر رکھنا ضروری نہیں، البتہ پاؤں کا جمانا اور ہاتھوں اور پیشانی کا کسی پاک چیز پر ٹکانا ضروری ہے، ہاں ایسے بستر یا قالین جو زیب و زینت کی وجہ سے دل کو اپنی طرف متوجہ کردیں ان پر نماز ادا کرنا پسندیدہ نہیں، تاہم اگر ان پر نماز پڑھ لی جائے تو فرض ادا ہو جائے گا۔
حضرت عائشہ ؓ اپنے اس معمول کے متعلق ایک عذر پیش کرتی ہیں کہ اس وقت مکانوں میں چراغ نہ تھے، کیونکہ چراغ ہونے کی صورت میں مجھے پتہ چل جاتا کہ آپ کس وقت سجدے میں جا رہے ہیں، اس وقت میں خود ہی پاؤں سمیٹ لیتی، لیکن اندھیرے کے سبب کچھ نظر ہی نہ آتا تھا، اس لیے آپ کو پاؤں دبانے کی ضرورت پیش آتی۔
2۔
بعض احادیث کے مطابق حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بستروں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 368)
امام بخاری ؒ نے یہ روایت پیش کر کے ضعف کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
چنانچہ امام ابو داؤد ؒ نے اس روایت کے بعد اس کے ناقابل حجت ہونے کی علت بھی بیان کی ہے۔
اگر ایسی روایات صحیح ہیں تو امام بخاری ؒ کی پیش کردہ روایات کے مقابلے میں وہ شاذ اور مردود قرارپائیں گی۔
(فتح الباري: 637/1)
3۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوئے ہوئے آدمی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ نہیں بلکہ جائز ہے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں ثابت کیا ہے کہ جس طرح نماز زمین یا اس کی جنس پر درست ہے غیر جنس ارض پر بھی درست ہے، خواہ وہ بستر ہو یا کوئی فرش قطع نظر اس سے کہ وہ بہترین ہو یا گھٹیا، چونکہ بعض اسلاف سے ان پر نماز پڑھنے کا انکار ثابت ہے، وہ عمدہ قالین یا وہ بستر جس میں روئی زیادہ ہو ان پر نماز ادا کرنا مکروہ قراردیتے تھے۔
اس لیے امام بخاری ؒ نے یہ روایت لا کر ان کے موقف کی تردید كی ہے۔
نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
اگرچہ بعض حضرات تاویل کرتے ہیں کہ پاؤں کو دباتے وقت اس پر کپڑا ہوتا تھا، لیکن یہ تاویل بعید ہے۔
پہلی حدیث میں بستر پر نماز پڑھنے کی صراحت نہ تھی۔
اس لیے دوسری روایت پیش کی کہ آپ بستر پر نماز پڑھتے تھے۔
اگرچہ اُم المومنین عائشہ ؓ کے آگے لیٹنے میں اشارہ موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بستر پر نماز پڑھ رہے تھے، تاہم تیسری روایت میں اس کی بھی صراحت موجود ہے۔
مقصد یہ ہے کہ پیشانی زمین پر رکھنا ضروری نہیں، البتہ پاؤں کا جمانا اور ہاتھوں اور پیشانی کا کسی پاک چیز پر ٹکانا ضروری ہے، ہاں ایسے بستر یا قالین جو زیب و زینت کی وجہ سے دل کو اپنی طرف متوجہ کردیں ان پر نماز ادا کرنا پسندیدہ نہیں، تاہم اگر ان پر نماز پڑھ لی جائے تو فرض ادا ہو جائے گا۔
حضرت عائشہ ؓ اپنے اس معمول کے متعلق ایک عذر پیش کرتی ہیں کہ اس وقت مکانوں میں چراغ نہ تھے، کیونکہ چراغ ہونے کی صورت میں مجھے پتہ چل جاتا کہ آپ کس وقت سجدے میں جا رہے ہیں، اس وقت میں خود ہی پاؤں سمیٹ لیتی، لیکن اندھیرے کے سبب کچھ نظر ہی نہ آتا تھا، اس لیے آپ کو پاؤں دبانے کی ضرورت پیش آتی۔
2۔
بعض احادیث کے مطابق حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بستروں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 368)
امام بخاری ؒ نے یہ روایت پیش کر کے ضعف کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
چنانچہ امام ابو داؤد ؒ نے اس روایت کے بعد اس کے ناقابل حجت ہونے کی علت بھی بیان کی ہے۔
اگر ایسی روایات صحیح ہیں تو امام بخاری ؒ کی پیش کردہ روایات کے مقابلے میں وہ شاذ اور مردود قرارپائیں گی۔
(فتح الباري: 637/1)
3۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوئے ہوئے آدمی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ نہیں بلکہ جائز ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 384]
Musnad al-Humaydi Hadith 177 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق