🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 264
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي خَبِيثُ النَّفْسِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: إِنِّي لَقِسُ النَّفْسِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی شخص یہ نہ کہے، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، بلکہ وہ یہ کہے میں تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الأدب 6179، باب: لايقل خبثت نفسي، ومسلم فى الأدب 2250، باب: كراهة قول الإنسان: خبثت نفسي، من طريق سفيان بهذا الإسناد. وقد استوفينا تخريجه فى «صحيح ابن حبان برقم 5724، ونضيف هنا أنه عند النسائي فى «الكبرى» 10888، 10889 وفي الباب عن أبى هريرة خرجناه فى «مسند الموصلي» برقم 5854»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6179
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
صحيح مسلم
5878
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
سنن أبي داود
4979
لا يقولن أحدكم جاشت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
مسندالحميدي
264
لا يقولن أحدكم إني خبيث النفس ولكن ليقل إني لقس النفس
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 264 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:264
فائدہ:
معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے جو اس کی عزت کے منافی نہ ہوں۔ لفظ خبیث اور لفظ نفس کا ظاہری مفہوم ایک ہی ہے لیکن لفظ خبیث اور اس کا ظاہری معنی انسانی وقار کے خلاف تھے اس لیے اپنے لیے یہ لفظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ (فتح الباری: 692/10)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 264]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4979
میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4979]
فوائد ومسائل:
اسلام نےاپنے ماننے والوں کے عقائدو اعمال میں پاکیزگی پیدا کرنے کے ساتھ ان کی زبان وبیان کے اسلوب و محاورات کو بھی پاکیزہ بنایاہے۔
ارشاد الہی ہے: (بئس الاسم الفسوق بعد الايمان)(الحجرات: ١١) ايمان لے آنے کے بعدفسق کا نام بہت برا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5878
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک نہ کہے، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، لیکن یوں کہے میرا نفس خراب ہو گیا ہے۔ ابوبکر کی حدیث میں لكن کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5878]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خبث اور لقس:
دونوں ایک معنی میں آ جاتے ہیں،
یعنی جی کا بھرجانا،
نفس کا متلانا،
کسی چیز کی طرف مائل ہونا،
لیکن خبث کے لفظ میں عموم زیادہ ہے،
اس لیے اس کا معنی پلید اور ناپاک ہونا،
ردی اور نکما ہونا بھی ہے،
اس لیے آپ نے اس لفظ کے استعمال کو متعین اور تشخص کے ساتھ پسند نہیں کیا،
کیونکہ آپ الفاظ کی شائستگی کو بھی ملحوظ رکھتے تھے،
لیکن اگر یہ غیر معین شخص کے لیے،
اجمالی انداز میں بلاتعیین استعمال کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے،
اس لیے آپ نے اس انسان کے بارے میں جو صبح کی نماز کے وقت سویا رہتا ہے،
فرمایا،
أصبح خبيث النفس:
وہ صبح اس حالت میں کرتا ہے کہ اس کا نفس پریشان اور پراگندہ ہوتا ہے۔
اس طرح اس حدیث کا تعلق الفاظ میں شائستگی کو ملحوظ رکھنے سے ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5878]

Musnad al-Humaydi Hadith 264 in Urdu