🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب لا يقال خبثت نفسي
باب: میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4979
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: جَاشَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4979]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز یوں نہ کہے: «خَبُثَتْ نَفْسِي» میرا جی جوش مارتا ہے، بلکہ یوں کہے: «لَقِسَتْ نَفْسِي» میرا جی پریشان ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16880)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 100 (6180)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب 4 (2250)، مسند احمد (6/51، 209، 281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (6179) ومسلم (2250)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← هشام بن عروة الأسدي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6179
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
صحيح مسلم
5878
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
سنن أبي داود
4979
لا يقولن أحدكم جاشت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
مسندالحميدي
264
لا يقولن أحدكم إني خبيث النفس ولكن ليقل إني لقس النفس
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4979 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4979
فوائد ومسائل:
اسلام نےاپنے ماننے والوں کے عقائدو اعمال میں پاکیزگی پیدا کرنے کے ساتھ ان کی زبان وبیان کے اسلوب و محاورات کو بھی پاکیزہ بنایاہے۔
ارشاد الہی ہے: (بئس الاسم الفسوق بعد الايمان)(الحجرات: ١١) ايمان لے آنے کے بعدفسق کا نام بہت برا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:264
فائدہ:
معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے جو اس کی عزت کے منافی نہ ہوں۔ لفظ خبیث اور لفظ نفس کا ظاہری مفہوم ایک ہی ہے لیکن لفظ خبیث اور اس کا ظاہری معنی انسانی وقار کے خلاف تھے اس لیے اپنے لیے یہ لفظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ (فتح الباری: 692/10)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 264]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5878
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک نہ کہے، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، لیکن یوں کہے میرا نفس خراب ہو گیا ہے۔ ابوبکر کی حدیث میں لكن کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5878]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خبث اور لقس:
دونوں ایک معنی میں آ جاتے ہیں،
یعنی جی کا بھرجانا،
نفس کا متلانا،
کسی چیز کی طرف مائل ہونا،
لیکن خبث کے لفظ میں عموم زیادہ ہے،
اس لیے اس کا معنی پلید اور ناپاک ہونا،
ردی اور نکما ہونا بھی ہے،
اس لیے آپ نے اس لفظ کے استعمال کو متعین اور تشخص کے ساتھ پسند نہیں کیا،
کیونکہ آپ الفاظ کی شائستگی کو بھی ملحوظ رکھتے تھے،
لیکن اگر یہ غیر معین شخص کے لیے،
اجمالی انداز میں بلاتعیین استعمال کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے،
اس لیے آپ نے اس انسان کے بارے میں جو صبح کی نماز کے وقت سویا رہتا ہے،
فرمایا،
أصبح خبيث النفس:
وہ صبح اس حالت میں کرتا ہے کہ اس کا نفس پریشان اور پراگندہ ہوتا ہے۔
اس طرح اس حدیث کا تعلق الفاظ میں شائستگی کو ملحوظ رکھنے سے ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5878]

Sunan Abi Dawud Hadith 4979 in Urdu