🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 289
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کے چہرے کا (بوسہ) لے لیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح واخرجه مسلم فى الصيام 1107، وابن ماجه فى سننه 1690، وأحمد فى المسند 25884 , 25885 , 25886 , 25887، وابن حبان فى صحيحه 3542، والنسائي فى الكبرى 2503 , 2504 , 2501، وأبو يعلى الموصلي فى مسنده 7051، وأبو عوانة فى مستخرجه 2315، والطحاوي فى شرح معاني الآثار 2171، والطبراني فى الكبير 18062 , 18063 , 18064 , 18065 , 18103، والبيهقي فى السنن الكبير 7626، والطيالسي فى مسنده 1680، وابن أبى شيبة فى مصنفه 9241» ‏‏‏‏

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت عمر العدويةصحابي
👤←👥شتير بن شكل العبسي، أبو عيسى
Newشتير بن شكل العبسي ← حفصة بنت عمر العدوية
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← شتير بن شكل العبسي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1690
رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع رب قائم ليس له من قيامه إلا السهر
مسندالحميدي
289
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 289 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:289
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت روزہ میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے۔ یاد رہے کہ جس شخص کو اپنے اوپر قابو ہو، وہ لے سکتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر قابو نہ کر سکتا ہو، وہ بوسہ نہیں لے سکتا، کہ کہیں وہ دوران روزہ گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے، جس سے اس پر کفارہ لازم آئے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 289]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1690
غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1690]
اردو حاشہ:
فوئد و مسائل:

(1)
اخلاص کے بغیر نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔

(2)
عبادت میں جس طرح ظاہری ارکان کی پابندی ضروری ہے۔
اسی طرح باطنی کیفیات اخلاص، اللہ کی محبت، اللہ کا خوف، اللہ سے امید وغیرہ بھی مطلوب ہیں۔
ان کی عدم موجودگی میں ظاہری عمل بے فائدہ ہے۔

(3)
اگر کسی موقع پر مطلوبہ باطنی اور قلبی کیفیت موجودنہ ہو تو نیکی کو ترک نہیں کردینا چاہیے۔
کیونکہ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو حاصل ہو ہی جائےگا۔
کہ فرض کا تارک شمار نہیں ہوگا۔
اور وہ نیکی مسلسل انجام دینے سے امید کی جا سکتی ہے۔
کہ دل پر تھوڑا بہت اچھا اثر لازماً ہوجائے گا۔

(4)
عبادات میں ان کے آداب کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1690]