مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 289
حدیث نمبر: 289
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کے چہرے کا (بوسہ) لے لیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح واخرجه مسلم فى الصيام 1107، وابن ماجه فى سننه 1690، وأحمد فى المسند 25884 , 25885 , 25886 , 25887، وابن حبان فى صحيحه 3542، والنسائي فى الكبرى 2503 , 2504 , 2501، وأبو يعلى الموصلي فى مسنده 7051، وأبو عوانة فى مستخرجه 2315، والطحاوي فى شرح معاني الآثار 2171، والطبراني فى الكبير 18062 , 18063 , 18064 , 18065 , 18103، والبيهقي فى السنن الكبير 7626، والطيالسي فى مسنده 1680، وابن أبى شيبة فى مصنفه 9241»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1690
| رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع رب قائم ليس له من قيامه إلا السهر |
مسندالحميدي |
289
|
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 289 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:289
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت روزہ میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے۔ یاد رہے کہ جس شخص کو اپنے اوپر قابو ہو، وہ لے سکتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر قابو نہ کر سکتا ہو، وہ بوسہ نہیں لے سکتا، کہ کہیں وہ دوران روزہ گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے، جس سے اس پر کفارہ لازم آئے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت روزہ میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے۔ یاد رہے کہ جس شخص کو اپنے اوپر قابو ہو، وہ لے سکتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر قابو نہ کر سکتا ہو، وہ بوسہ نہیں لے سکتا، کہ کہیں وہ دوران روزہ گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے، جس سے اس پر کفارہ لازم آئے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 289]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1690
غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1690]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1690]
اردو حاشہ:
فوئد و مسائل:
(1)
اخلاص کے بغیر نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔
(2)
عبادت میں جس طرح ظاہری ارکان کی پابندی ضروری ہے۔
اسی طرح باطنی کیفیات اخلاص، اللہ کی محبت، اللہ کا خوف، اللہ سے امید وغیرہ بھی مطلوب ہیں۔
ان کی عدم موجودگی میں ظاہری عمل بے فائدہ ہے۔
(3)
اگر کسی موقع پر مطلوبہ باطنی اور قلبی کیفیت موجودنہ ہو تو نیکی کو ترک نہیں کردینا چاہیے۔
کیونکہ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو حاصل ہو ہی جائےگا۔
کہ فرض کا تارک شمار نہیں ہوگا۔
اور وہ نیکی مسلسل انجام دینے سے امید کی جا سکتی ہے۔
کہ دل پر تھوڑا بہت اچھا اثر لازماً ہوجائے گا۔
(4)
عبادات میں ان کے آداب کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
فوئد و مسائل:
(1)
اخلاص کے بغیر نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔
(2)
عبادت میں جس طرح ظاہری ارکان کی پابندی ضروری ہے۔
اسی طرح باطنی کیفیات اخلاص، اللہ کی محبت، اللہ کا خوف، اللہ سے امید وغیرہ بھی مطلوب ہیں۔
ان کی عدم موجودگی میں ظاہری عمل بے فائدہ ہے۔
(3)
اگر کسی موقع پر مطلوبہ باطنی اور قلبی کیفیت موجودنہ ہو تو نیکی کو ترک نہیں کردینا چاہیے۔
کیونکہ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو حاصل ہو ہی جائےگا۔
کہ فرض کا تارک شمار نہیں ہوگا۔
اور وہ نیکی مسلسل انجام دینے سے امید کی جا سکتی ہے۔
کہ دل پر تھوڑا بہت اچھا اثر لازماً ہوجائے گا۔
(4)
عبادات میں ان کے آداب کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1690]
شتير بن شكل العبسي ← حفصة بنت عمر العدوية