🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 356
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 356
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا ، قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَاكِرُ حَمْزَةَ الدُّنْيَا، فَقَالَ:" إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَإِنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مَتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ" , وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دنیا کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، جو اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے مال اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال میں تصرف کرنے والے (یعنی ناحق طور پر اسے حاصل کرنے والے) کے لیے اس دن آگ ہو گی جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: قیامت کے دن۔ [مسند الحميدي/حدیث: 356]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد: وأخرجه البخاري فى "فرض الخمس " برقم: 3118، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2892، 4512، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2374، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27696، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 35523»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم صبية الجهنية، أم صبيةصحابي
👤←👥عبيد بن سنوطا المدني، أبو الوليد
Newعبيد بن سنوطا المدني ← أم صبية الجهنية
ثقة
👤←👥عمر بن كثير المدني
Newعمر بن كثير المدني ← عبيد بن سنوطا المدني
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن كثير المدني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2374
المال خضرة حلوة من أصابه بحقه بورك له فيه رب متخوض فيما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ليس له يوم القيامة إلا النار
مسندالحميدي
356
إن الدنيا حلوة خضرة فإن أخذها بحقها بورك له فيها، ورب متخوض في مال الله ومال رسوله له النار يوم يلقاه
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 356 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:356
فائدہ:
حدیث میں حق کے مطابق کا مطلب ہے کہ حلال آمدنی جو حلال ذرائع سے حاصل کی جائے، اس میں برکت ہی برکت ہے، لیکن اگر کوئی ناجائز اور حرام طریقوں سے روزی کما تا ہے تو اس میں خیر و برکت نہیں ہوگی، بلکہ دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے دور ہو گا، اور آخر کار اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 356]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2374
حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان۔
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2374]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مال سے مراد دنیاہے،
یعنی دنیا بے انتہا میٹھی،
ہری بھری،
اور دل کو لبھانے والی ہے،
زبان اور نگاہ سب کی لذت کی جامع ہے،
اس لیے اس کے حصول کے لیے حرام طریقہ سے بچ کر صرف حلال طریقہ اپنانا چاہئے،
کیونکہ حلال طریقہ اپنانے والے کے لیے جنت اورحرام طریقہ اپنانے والے کے لیے جہنم ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2374]

Musnad al-Humaydi Hadith 356 in Urdu