مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 443
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَدِ اللَّهِ بْنِ مُحْصَنٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ , مُعَافًا فِي جِسْمِهِ , عِنْدَهُ طَعَامُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا" .
سلمہ بن عبیداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ وہ خوشحال ہو، جسمانی طور پر تندرست ہو، اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو، گویا اس کے لیے دنیا کو سمیٹ دیا گیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2346 وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4141، وابن حبان فى ”صحيحه“: 671»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبيد الله بن محصن الأنصاري | مختلف في صحبته | |
👤←👥سلمة بن عبيد الله الأنصاري سلمة بن عبيد الله الأنصاري ← عبيد الله بن محصن الأنصاري | مجهول الحال | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي شميلة الأنصاري عبد الرحمن بن أبي شميلة الأنصاري ← سلمة بن عبيد الله الأنصاري | مقبول | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← عبد الرحمن بن أبي شميلة الأنصاري | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← مروان بن معاوية الفزاري | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2346
| من أصبح منكم آمنا في سربه معافى في جسده عنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا |
سنن ابن ماجه |
4141
| من أصبح منكم معافى في جسده آمنا في سربه عنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا |
مسندالحميدي |
443
| من أصبح منكم آمنا في سربه معافا في جسمه عنده طعام يومه فكأنما حيزت له الدنيا |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 443 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:443
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صحت و عافیت اور ایک دن کے کھانے کے سامان کا گھر میں ہونا ایسے ہی ہے جیسے پوری دنیا اس کے پاس ہے، سبحان اللہ۔ حدیث میں قناعت کا زبردست بیان ہے، اور ناشکری کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صحت و عافیت اور ایک دن کے کھانے کے سامان کا گھر میں ہونا ایسے ہی ہے جیسے پوری دنیا اس کے پاس ہے، سبحان اللہ۔ حدیث میں قناعت کا زبردست بیان ہے، اور ناشکری کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 443]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4141
قناعت کا بیان۔
عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا جسم صحیح سلامت ہو، اس کی جان امن و امان میں ہو اور اس دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو گویا اس کے لیے دنیا اکٹھی ہو گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4141]
عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا جسم صحیح سلامت ہو، اس کی جان امن و امان میں ہو اور اس دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو گویا اس کے لیے دنیا اکٹھی ہو گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4141]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جسے کوئی بیماری اور خوف نہ ہو اور دن بھر کی ضرورت کا سامان موجود ہو تو یہ بہت بڑی نعمت ہے۔
(2)
ہم زیادہ کی خواہش میں ان نعمتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دل میں شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
(3)
جس شخص کے پاس ایک دن کی ضروریات موجود ہیں اسے اس دن کا شکر ادا کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ جب کل کا دن آئے گا تو اللہ تعالی اس کی ضروریات بھی مہیا فرما دے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
جسے کوئی بیماری اور خوف نہ ہو اور دن بھر کی ضرورت کا سامان موجود ہو تو یہ بہت بڑی نعمت ہے۔
(2)
ہم زیادہ کی خواہش میں ان نعمتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دل میں شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
(3)
جس شخص کے پاس ایک دن کی ضروریات موجود ہیں اسے اس دن کا شکر ادا کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ جب کل کا دن آئے گا تو اللہ تعالی اس کی ضروریات بھی مہیا فرما دے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4141]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2346
زہد و قناعت سے متعلق ایک اور باب۔
عبیداللہ بن محصن خطمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2346]
عبیداللہ بن محصن خطمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2346]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ امن وصحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہترہے جو امن وصحت والی نہ ہو،
گویا انسان کو مال ودولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگناچاہئے بلکہ صبروقناعت کا راستہ اختیارکرنا چاہئے کیونکہ امن وسکون اور راحت وآسائش اسی میں ہے۔
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ امن وصحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہترہے جو امن وصحت والی نہ ہو،
گویا انسان کو مال ودولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگناچاہئے بلکہ صبروقناعت کا راستہ اختیارکرنا چاہئے کیونکہ امن وسکون اور راحت وآسائش اسی میں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2346]
سلمة بن عبيد الله الأنصاري ← عبيد الله بن محصن الأنصاري