🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 504
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثنا كُرَيْبٌ أَبُو رِشْدِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْتِ جُوَيْرِيَةَ حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَكَانِ اسْمُهَا بَرَّةُ، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرِهَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَمَا تَعَالَى النَّهَارُ وَهِيَ جَالِسَةٌ فِي مُصَلاهَا، فَقَالَ لَهَا: " لَمْ تَزَالِي فِي مَجْلِسِكِ هَذَا؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكَ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَّ بِجَمِيعِ مَا قُلْتِ: لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَى نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سے باہر تشریف لائے۔ ان کا نام برہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام جویریہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ یہ کہا جائے کہ آپ برہ (بھلائی یا نیکی) کے پاس سے تشریف لے گئے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد اس خاتون کے ہاں سے نکلے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے، تو دن اچھی طرح چڑھ چکا تھا۔ وہ خاتون اپنی جائے نماز پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تم اس وقت سے یہیں بیٹھی ہوئی ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمات تین مرتبہ پڑھے، تم نے جو کچھ پڑھا ہے اگر ان کلمات کو ان کے وزن میں رکھا جائے، تو یہ کلمات وزنی ہوں گے (وہ کلمات یہ ہیں) ’اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، اس کے لیے حمد مخصوص ہے، جو اس مخلوق کی تعداد کے برابر ہو، اس کی ذات کی رضامندی کے برابر ہو، اس کے عرش کے وزن کے برابر ہو اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ہو۔‘ [مسند الحميدي/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2140، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 832، 5829، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9916، 9917، 9918، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1503، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2370»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القرشي
Newمحمد بن عبد الرحمن القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1503
سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته
مسندالحميدي
504
لم تزالي في مجلسك هذا
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 504 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:504
فائدہ:
اس حدیث میں نماز فجر کے بعد مسنون اذکار میں سے ایک ذکر کا بیان ہے، اور ساتھ ہی اس کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔ عمل خواہ تھوڑا ہی ہو لیکن سنت کے مطابق ہونا چاہیے، یہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اس عمل سے جو تھکا دینے والا ہو اور سنت کے مخالف ہو۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 504]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1503
کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎ آپ نے اسے بدل دیا)، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1503]
1503. اردو حاشیہ:
➊ ایسے نام رکھنا جن میں خود ستائی کا مفہوم نکلتا ہو۔ مناسب نہیں ہے۔ ا س طرح جن میں کوئی بُرا معنی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے معنوں کو تبدیل کردیا کرتے تھے۔
➋ جامع اور مختصر ورد اختیار کرنا افضل ہے۔ اور مذکورہ بالا تسبیح انتہائی مختصر اور جامع ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1503]

Musnad al-Humaydi Hadith 504 in Urdu