🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب التسبيح بالحصى
باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1503
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، فَقَالَ:" لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ هَذَا؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎ آپ نے اسے بدل دیا)، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1503]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سے نکلے، اس سے پہلے ان کا نام برہ (نیک اور صالحہ) تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سے نکلے اور وہ اپنے مصلے پر تھیں، پھر واپس تشریف لائے تو (دیکھا کہ) وہ اپنے مصلے ہی پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس وقت سے اپنے مصلے ہی پر ہو؟ وہ کہنے لگیں: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے (ہاں سے جانے کے) بعد چار کلمات تین بار کہے ہیں، اگر ان کو تمہاری تسبیحات اور ذکر سے وزن کیا جائے تو یہ (میرے کلمات) بھاری ہو جائیں گے، یعنی «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» پاکیزگی ہے اللہ کی اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس قدر جتنی کہ اس کی مخلوق ہے اور اتنی کہ اس سے وہ راضی ہو جائے اور اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس قدر جتنی کہ اس کے کلمات کی روشنائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2140 و 2726)، (تحفة الأشراف:6358)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/افتتاح 94 (1353)، سنن الترمذی/الدعاء 104(3555)، سنن ابن ماجہ/الأدب 56 (2808)، مسند احمد (1/258، 316، 326، 353) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسی طرح زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا، اس کو بدل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رکھ دیا، اس لئے کہ معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کون برہ (نیکوکار) ہے اور کون فاجرہ (بدکار) ہے، انسان کو آپ اپنی تعریف و تقدیس مناسب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2726)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القرشي
Newمحمد بن عبد الرحمن القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥داود بن أمية الأزدي
Newداود بن أمية الأزدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1503
سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته
مسندالحميدي
504
لم تزالي في مجلسك هذا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1503 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1503
1503. اردو حاشیہ:
➊ ایسے نام رکھنا جن میں خود ستائی کا مفہوم نکلتا ہو۔ مناسب نہیں ہے۔ ا س طرح جن میں کوئی بُرا معنی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے معنوں کو تبدیل کردیا کرتے تھے۔
➋ جامع اور مختصر ورد اختیار کرنا افضل ہے۔ اور مذکورہ بالا تسبیح انتہائی مختصر اور جامع ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1503]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:504
504- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سے بار تشریف لائے۔ ان کا نام برہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام جویریہ رکھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ یہ کہا جائے کہ آپ برہ (بھلائی یا نیکی) کے پاس سے تشریف لے گئے ہیں۔ سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرلینے کے بعد اس خاتون کے ہاں سے نکلے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے، تو دن اچھی طرح چڑھ چکا تھا۔ وہ خا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:504]
فائدہ:
اس حدیث میں نماز فجر کے بعد مسنون اذکار میں سے ایک ذکر کا بیان ہے، اور ساتھ ہی اس کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔ عمل خواہ تھوڑا ہی ہو لیکن سنت کے مطابق ہونا چاہیے، یہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اس عمل سے جو تھکا دینے والا ہو اور سنت کے مخالف ہو۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 504]

Sunan Abi Dawud Hadith 1503 in Urdu