🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 546
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ زَمَانِ سُفْيَانَ أَثْبَتَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَأَيْتُ ظُلَّةً تَنْطِفُ سَمْنًا وَعَسَلا وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنْهُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلا إِلَى السَّمَاءِ أَخَذْتَ بِهِ، فَأَعَلاكَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلا، ثُمَّ آخَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَلا، ثُمَّ آخَرُ مِنَ بَعْدِهِ فَقُطِعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ: اعْبُرْهَا، قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالإِسْلامُ، وَأَمَّا يَنْطِفُ سَمْنًا وَعَسَلا وَالنَّاسُ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ، فَهُوَ الْقُرْآنُ وَحَلاوَتُهُ وَلِينُهُ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنْهُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ إِلَى السَّمَاءِ فَهُوَ مَا أَنْتَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ أَخَذْتَ بِهِ، فَأَعَلاكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعلُو بِهِ، ثُمَّ آخَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَيَعْلُو، ثُمَّ آخَرُ مِنْ بَعْدِهِ، فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَبْتُ؟ قَالَ: أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضَهَا، قَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا تُقْسِمُ يَا أَبَا بَكْرٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ احد سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے ایک بادل دیکھا ہے، جس میں سے گھی اور شہد کی بارش ہو رہی تھی، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اسے ہتھیلیوں میں حاصل کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ زیادہ حاصل کر رہے تھے، کوئی کم حاصل کر رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف جاتی ہوئی ایک رسی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر لے گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک صاحب نے اسے پکڑا تو وہ بھی اوپر چلے گئے، پھر ان کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑا تو وہ بھی اوپر چلے گئے۔ پھر اس کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑا مگر وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اسے ملا دیا گیا تو وہ بھی اوپر چلے گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تعبیر بیان کرو! انہوں نے عرض کیا: بادل سے مراد اسلام ہے، اور اس سے جو گھی اور شہد برس رہا ہے اور لوگ اسے ہتھیلیوں میں حاصل کر رہے ہیں، اس سے مراد قرآن، اس کی تلاوت اور اس کی نرمی ہے، تو کوئی اسے زیادہ حاصل کر رہا ہے اور کوئی کم حاصل کر رہا ہے۔ جہاں تک آسمان پر جانے والی رسی کا تعلق ہے، تو اس سے مراد وہ حق ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گامزن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلندی عطا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑ لے گا، تو وہ اس کے ذریعے بلندی حاصل کر لے گا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا، تو وہ بھی بلندی حاصل کر لے گا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا، تو یہ منقطع ہو جائے گی، لیکن پھر اس رسی کو اس کے لیے ملا دیا جائے گا، تو وہ بھی بلندی اختیار کرے گا۔ یا رسول اللہ! کیا میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ اس میں غلطی ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دیتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم قسم نہ دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 7000، 7046، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2269، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 111، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7593، 7594، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3267، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2202، 2389، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3918، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19945، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1919، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2565، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31121»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3267
لا تقسم
مسندالحميدي
546
اعبرها
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 546 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:546
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خوابوں کی تعبیر کے ماہر تھے، ان کی کس قدر فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں خواب کی تعبیر بیان کی، نیز اس میں خلافت کا بھی بیان ہے کہ پہلے اور دوسرے خلیفہ کا نظام مضبوط ہوگا، تیسرے کی خلافت میں بعض فتنے وفساد ظاہر ہوں گے لیکن چوتھے خلیفہ کی موجودگی میں وہ فتنے وفسادختم ہوں گے، اور ہر لحاظ سے کامیابی ملے گی۔ خواب کی تعبیر کے متعلق ضروری بات ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ خواب کی تعبیر پہلے تعبیر کرنے والے کی تعبیر سے پوری ہو جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه: 3915]
یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں یزید رقاشی ضعیف ہے اور اعمش مدلس ہے اور عن سے بیان کر رہا ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ اگر پہلی تعبیر کرنے والا غلط تعبیر بتا دے تو اس کی تعبیر سے کچھ نہ ہوگا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس کو ترجیح دی ہے۔ [صـحـيـح البخارى قبل ح: 7046]
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی غلطی کو بیان نہیں کیا، ہمیں بھی اس غلطی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 546]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3267
کیا لفظ قسم بھی «يمين» (حلف) میں داخل ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دلائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3267]
فوائد ومسائل:
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
اگر کوئی شخص کسی کو محض یوں کہہ دے۔
کہ تجھے قسم ہے یہ قسم نہیں۔
یوں کہے کہ تجھے اللہ کی قسم ہے۔
تو یہ قسم ہوگی۔
اوراس کے مطابق عمل کرنالازم ہوگا۔
لیکن اگر کوئی پوری نہ کرسکے تو کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3267]