🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 781
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 781
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنِ اسْتَرْقَى وَاكْتَوَى" .
عقار بن مغیرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ جو شخص دم، جھاڑ کرتا ہے یا داغ لگواتا ہے۔ وہ توکل نہیں کرتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6087، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8373، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7561، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2055، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3489، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19603، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18467 برقم: 18487»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسىصحابي
👤←👥عقار بن المغيرة الثقفي
Newعقار بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عقار بن المغيرة الثقفي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2055
من اكتوى استرقى فقد برئ من التوكل
سنن ابن ماجه
3489
من اكتوى استرقى فقد برئ من التوكل
مسندالحميدي
781
لم يتوكل من استرقى واكتوى
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 781 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:781
فائدہ:
شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے الفاظ ایسے ہوں کہ جن کا مفہوم غیر واضح ہو ان کے ذریعے دم کرنا ممنوع ہے۔ ماثور الفاظ کے ساتھ دم کرنا مسنون ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 781]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3489
آگ یا لوہا سے بدن داغنے کا بیان۔
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے (آگ یا لوہا سے بدن) داغنے یا منتر (جھاڑ پھونک) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہو گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3489]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عرب میں بعض بیماریوں کا علاج اس طرح بھی کیا جاتا تھا کہ لوہے کی کوئی چیز آگ میں گرم کرتے حتیٰ کہ وہ سرخ ہوجاتی۔
پھر وہ گرم لوہا جسم کے بیماری والے حصے پرلگایا جاتا جس سے بیماری کے بعض اثرات کا ازالہ ہوجاتا اسے داغنا کہتے ہیں۔

(2)
جہاں تک ممکن ہوسکے داغنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
جب کوئی چارہ نہ رہے تو پھر یہ علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔

(3)
جانوروں کی پہچان کےلئے ان کے جسم پر اس طریقے سے نشان لگایا جاتا ہے۔
یہ جائز ہے۔
لیکن جانور کے چہرے کو داغنا ممنوع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3489]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2055
جھاڑ پھونک کی کراہت کا بیان۔
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2055]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے معنی و مفہوم واضح نہ ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک ممنوع ہے،
ماثور الفاظ کے ساتھ جھاڑ پھونک جائز ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2055]

Musnad al-Humaydi Hadith 781 in Urdu