مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 803
حدیث نمبر: 803
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَجْيَةَ الْكِنْدِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْيَمَنِ، فِي ثَلاثَةِ نَفَرٍ وَقَعُوا عَلَى جَارِيَةٍ لَهُمْ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ لاثْنَيْنِ مِنْهُمْ: أَتَطِيبَانِ بِهِ نَفْسًا لِصَاحِبِكُمَا؟ قَالا: لا، ثُمَّ قَالَ لِلآخَرَيْنِ: أَتَطِيبَانِ بِهِ نَفْسًا لِصَاحِبِكُمَا؟ قَالا: لا، ثُمَّ قَالَ لآخَرَيْنِ: أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِصَاحِبِكُمَا؟ قَالا: لا، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّنَيْ مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ أَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ، وَأَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ قِيمَةِ الْجَارِيَةِ لِصَاحِبَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" مَا أَعْلَمُ فِيهَا إِلا مَا قَالَ عَلِيٌّ" ,
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ یمن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تین آدمی پیش کیے گئے، جنہوں نے اپنی کنیز کے ساتھ ایک ہی طہر کے دوران صحبت کی تھی اور اس کنیز کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو افراد سے کہا: کیا تم دونوں اپنے تیسرے ساتھی کے حق میں دستبردار ہونا چاہو گے؟ ان دونوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے باقی دو سے دریافت کیا: کیا تم دونوں اپنے ساتھی کے حق میں دستبردار ہونا چاہو گے؟ ان دونوں نے بھی جواب دیا: جی نہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”تم آپس میں اختلاف رکھنے والے شراکت دار ہو میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرواتا ہوں۔ جس کے نام قرعہ نکل آیا میں بچے کو اس کے ساتھ لاحق کر دوں گا اس شخص کو اپنے باقی دو ساتھیوں کو کنیز کی دو تہائی قیمت تاوان کے طور پر دینا ہوگی۔“ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس بارے میں میری بھی وہی رائے ہے، جو علی نے بیان کی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2846، 4684، 4685، 7129، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3488، 3489، 3490، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2269، 2270، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2348، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21339، 21340، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19637 برقم: 19650 برقم: 19652، والطبراني فى "الكبير"، برقم: 4990»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2269
| ثلاثة نفر من أهل اليمن أتوا عليا يختصمون إليه في ولد وقد وقعوا على امرأة في طهر واحد فقال لاثنين منهما طيبا بالولد لهذا فغليا ثم قال لاثنين طيبا بالولد لهذا فغلبا ثم قال لاثنين طيبا بالولد لهذا فغلبا فقال أنتم شركاء متشاكسون إني مقرع بينكم فمن قرع فله الو |
سنن النسائى الصغرى |
3520
| شهدت عليا أتي في ثلاثة نفر ادعوا ولد امرأة فقال علي لأحدهم تدعه لهذا فأبى وقال لهذا تدعه لهذا فأبى وقال لهذا تدعه لهذا فأبى قال علي أنتم شركاء متشاكسون وسأقرع بينكم فأيكم أصابته القرعة فهو له وعليه ثلثا الدية فضحك رسول الله صلى الله |
مسندالحميدي |
803
| ما أعلم فيها إلا ما قال علي |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 803 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:803
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ تنازعہ ہو جائے تو اس میں قرعہ کرنا درست ہے نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ تنازعہ ہو جائے تو اس میں قرعہ کرنا درست ہے نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 804]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2269
ایک لڑکے کے کئی دعویدار ہوں تو قرعہ ڈالنے کا بیان۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اہل یمن میں سے تین آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر (پاکی) میں جماع کیا تھا، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے (تیسرے کو) دے دو، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے، پھر دو سے یہی بات کہی، وہ بھی بھڑک اٹھے، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”تم تو با۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2269]
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اہل یمن میں سے تین آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر (پاکی) میں جماع کیا تھا، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے (تیسرے کو) دے دو، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے، پھر دو سے یہی بات کہی، وہ بھی بھڑک اٹھے، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”تم تو با۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2269]
فوائد ومسائل:
کسی شکل کے حروف لکھ کر ان سے کسی مطلوبہ امر کے ہونے نہ ہونے پر استدلال کرنا قرعہ کہلاتا ہے۔
(ابجد العلوم)
کسی شکل کے حروف لکھ کر ان سے کسی مطلوبہ امر کے ہونے نہ ہونے پر استدلال کرنا قرعہ کہلاتا ہے۔
(ابجد العلوم)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2269]
Musnad al-Humaydi Hadith 803 in Urdu
عبد الله بن الخليل الحضرمي ← زيد بن أرقم الأنصاري