🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 883
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ الأَحْمَسِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ الدُّبَّاءَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" نُكْثِرُ بِهِ طَعَامَ أَهْلِنَا" .
حکیم بن جابر احمسی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کدو موجود دیکھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اس کے ذریعے اپنے گھر والوں کا کھانا (سالن) زیادہ کر لیں گے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 883]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6631، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3304، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19406، 19407، والترمذي فى «الشمائل» برقم: 161، والطبراني فى "الكبير" برقم: 2080، 2081، 2082، 2083، 2084، 2085»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن طارق الأحمسي، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن جابر الأحمسي
Newحكيم بن جابر الأحمسي ← جابر بن طارق الأحمسي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← حكيم بن جابر الأحمسي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3304
هذا القرع هو الدباء نكثر به طعامنا
مسندالحميدي
883
نكثر به طعام أهلنا
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 883 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:883
فائدہ:
کدو ایک مفید سبزی ہے۔ گوشت میں سبزی خصوصاً کدو ڈال کر پکانا برکت اور لذت کا باعث ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث (صحیح البخاری: 5379) میں مذکور ہے کہ کدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذا ہے۔ تو جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس دن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھے کدو سے محبت ہوگئی، محب صادق وہی ہوتا ہے جو محبوب کو بھی چاہے اور محبوب کی چاہت و پسند کو بھی چاہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان کے لیے بہت ہی بہتر ہے کہ وہ کدو کو مرغوب سمجھے اور پسندیدہ غذا کے طور پر شوق و رغبت سے کھائے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 882]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3304
کدو کا بیان۔
جابر (جابر بن طارق) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «قرع» یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3304]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل:

(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
ان کے کلام سے معلوم ہوتا کہ تصحیح حدیث والی رائے ہی درست ہے لہٰذا مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللہ اعلم . مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 31/ 447، 448، والصحيحة للألبانى، رقم: 2400،   وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3304)

(2)
کدو ایک مفید سبزی ہے۔

(3)
اہل عرب گوشت کھانےکے عادی تھے۔
ا کثر اوقات خالی گوشت ہی سالن کےطور پر کھاتے تھے۔

(4)
  گوشت میں سبزی خصوصاً کدو ڈال کر پکانا برکت اور لذت کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3304]

Musnad al-Humaydi Hadith 883 in Urdu