🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : الدباء
باب: کدو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3304
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , وَعِنْدَهُ هَذَا الدُّبَّاءُ، فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا الْقَرْعُ، هُوَ الدُّبَّاءُ نُكْثِرُ بِهِ طَعَامَنَا".
جابر (جابر بن طارق) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «قرع» یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3304]
حضرت حکیم بن جابر رحمہ اللہ اپنے والد حضرت جابر بن طارق احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کدو تھا، میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «الْقُرْعُ» کدو ہے، ہم اس کے ساتھ اپنے کھانے (سالن) میں اضافہ کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2211، ومصباح الزجاجة: 1135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 177، 206) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سالن بڑھاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شمائل الترمذي(160)
إسماعيل بن أبي خالد عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن طارق الأحمسي، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن جابر الأحمسي
Newحكيم بن جابر الأحمسي ← جابر بن طارق الأحمسي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← حكيم بن جابر الأحمسي
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3304
هذا القرع هو الدباء نكثر به طعامنا
مسندالحميدي
883
نكثر به طعام أهلنا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3304 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3304
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل:

(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
ان کے کلام سے معلوم ہوتا کہ تصحیح حدیث والی رائے ہی درست ہے لہٰذا مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللہ اعلم . مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 31/ 447، 448، والصحيحة للألبانى، رقم: 2400،   وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3304)

(2)
کدو ایک مفید سبزی ہے۔

(3)
اہل عرب گوشت کھانےکے عادی تھے۔
ا کثر اوقات خالی گوشت ہی سالن کےطور پر کھاتے تھے۔

(4)
  گوشت میں سبزی خصوصاً کدو ڈال کر پکانا برکت اور لذت کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3304]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:883
883-حکیم بن جابر احمسی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کدو موجود دیکھا میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اس کے ذریعے اپنے گھر والوں کا کھانا (سالن) زیادہ کرلیں گے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:883]
فائدہ:
کدو ایک مفید سبزی ہے۔ گوشت میں سبزی خصوصاً کدو ڈال کر پکانا برکت اور لذت کا باعث ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث (صحیح البخاری: 5379) میں مذکور ہے کہ کدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذا ہے۔ تو جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس دن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھے کدو سے محبت ہوگئی، محب صادق وہی ہوتا ہے جو محبوب کو بھی چاہے اور محبوب کی چاہت و پسند کو بھی چاہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان کے لیے بہت ہی بہتر ہے کہ وہ کدو کو مرغوب سمجھے اور پسندیدہ غذا کے طور پر شوق و رغبت سے کھائے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 882]

Sunan Ibn Majah Hadith 3304 in Urdu