یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 904
حدیث نمبر: 904
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ:" انْحَرْهُ، ثُمَّ اغْمِسْ خُفَّهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهَا صَفْحَتَهُ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ" .
سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے نگران تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو اونٹ تھک جائے اس کے ساتھ میں کیا طریقہ کار اختیار کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر دو! پھر تم اس کے پاؤں کو اس خون میں ڈبو کر اسے اس اونٹ کے پہلو پر لگاؤ پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 904]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2577، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4023، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4123، 6605، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1762، والترمذي فى «جامعه» برقم: 910، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1950، 1951، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3106، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10363، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19246، 19247»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ناجية بن الأعجم | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← ناجية بن الأعجم | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
910
| انحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم خل بين الناس وبينها فيأكلوها |
سنن أبي داود |
1762
| عطب منها شيء فانحره ثم اصبغ نعله في دمه ثم خل بينه وبين الناس |
سنن ابن ماجه |
3106
| كيف أصنع بما عطب من البدن قال انحره واغمس نعله في دمه ثم اضرب صفحته وخل بينه وبين الناس فليأكلوه |
مسندالحميدي |
904
| انحره، ثم اغمس خفه في دمه، ثم اضرب بها صفحته، ثم خل بينه وبين الناس |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 904 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:904
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جانور مرنے لگے تو اس کو ذبح کر دینا چاہیے تاکہ اس کے گوشت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں، اور یہ عام ہے لیکن جو جانور ہدی کے لیے خاص کیا گیا ہو، اور وہ جانور بیت اللہ کی طرف لے جایا جا رہا ہو، وہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے مرنے لگے تو اس کو ذبح کر لینا چاہیے، اس کے پاؤں کو خون لگا دینا چاہیے، اور اس کے پہلو پر خون کا نشان لگا دینا چاہیے۔ اس جانور کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھانا چاہیے، لیکن اس محلے اور شہر کے رہنے والے لوگ اس سے کھا سکتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جانور مرنے لگے تو اس کو ذبح کر دینا چاہیے تاکہ اس کے گوشت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں، اور یہ عام ہے لیکن جو جانور ہدی کے لیے خاص کیا گیا ہو، اور وہ جانور بیت اللہ کی طرف لے جایا جا رہا ہو، وہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے مرنے لگے تو اس کو ذبح کر لینا چاہیے، اس کے پاؤں کو خون لگا دینا چاہیے، اور اس کے پہلو پر خون کا نشان لگا دینا چاہیے۔ اس جانور کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھانا چاہیے، لیکن اس محلے اور شہر کے رہنے والے لوگ اس سے کھا سکتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 903]
Musnad al-Humaydi Hadith 904 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← ناجية بن الأعجم