الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب ما يكره من الأسماء
جو نام برے ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 1781
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ لِرَجُلٍ:" مَا اسْمُكَ؟" فَقَالَ: جَمْرَةُ، فَقَالَ:" ابْنُ مَنْ؟" فَقَالَ: ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ:" مِمَّنْ؟" قَالَ: مِنْ الْحُرَقَةِ، قَالَ:" أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟" قَالَ: بِحَرَّةِ النَّارِ، قَالَ:" بِأَيِّهَا؟" قَالَ: بِذَاتِ لَظًى، قَالَ عُمَرُ: " أَدْرِكْ أَهْلَكَ فَقَدِ احْتَرَقُوا"، قَالَ: فَكَانَ كَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: جمرہ (انگارہ)، انہوں نے پوچھا: باپ کا نام؟ کہا: شہاب (شعلہ)، پوچھا: کہاں رہتا ہے؟ کہا: حرۃ النار میں، پوچھا: کون سی جگہ میں؟ کہا: ذات لظی میں، (ان کے معنی بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جا اپنے لوگوں کی خبر لے، وہ سب جل گئے۔ راوی نے کہا: جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا (یعنی سب جل گئے تھے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1781]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه عبدالله بن وهب فى «الجامع» : 78، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 25»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة ثبت |
يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي