سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
210. باب الإجابة أية ساعة هي في يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی کون سی ہے؟
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، أَنَّ الْجُلَاحَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ يُرِيدُ سَاعَةً لَا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلاش کرو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 14 (1390)، (تحفة الأشراف: 3157) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1360)
أخرجه النسائي (1390 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1360)
أخرجه النسائي (1390 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1390
| يوم الجمعة اثنتا عشرة ساعة لا يوجد فيها عبد مسلم يسأل الله شيئا إلا آتاه إياه فالتمسوها آخر ساعة بعد العصر |
سنن أبي داود |
1048
| يوم الجمعة ثنتا عشرة يريد ساعة لا يوجد مسلم يسأل الله شيئا إلا أتاه الله فالتمسوها آخر ساعة بعد العصر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1048 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1048
1048۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں پیچھے مذکور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بیان کی تائید ہے کہ یہ ساعت قبول عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہے۔
اس حدیث میں پیچھے مذکور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بیان کی تائید ہے کہ یہ ساعت قبول عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1048]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1390
جمعہ کے وقت کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کا دن بارہ ساعتوں (گھڑیوں) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1390]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کا دن بارہ ساعتوں (گھڑیوں) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1390]
1390۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت میں ساعات سے مراد، معروف (ساعات نجومیہ) گھنٹے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چند گھڑیاں ہیں جو فضیلت رکھتی ہیں اور ان میں سے سب سے افضل وہ گھڑی ہے جس میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔
➋ محقق روایات کے مطابق وہ وقت یا گھڑی عصر کے بعد کسی وقت ہے۔ اگرچہ اس بارے میں اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ أعلم۔
➊ اس روایت میں ساعات سے مراد، معروف (ساعات نجومیہ) گھنٹے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چند گھڑیاں ہیں جو فضیلت رکھتی ہیں اور ان میں سے سب سے افضل وہ گھڑی ہے جس میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔
➋ محقق روایات کے مطابق وہ وقت یا گھڑی عصر کے بعد کسی وقت ہے۔ اگرچہ اس بارے میں اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1390]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري