سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
217. باب الجمعة للمملوك والمرأة
باب: غلام اور عورت کے لیے جمعہ کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1067]
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ لازماً فرض ہے، سوائے چار قسم کے لوگوں کے: غلام مملوک، عورت، بچہ اور مریض۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4981) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1377)
طارق بن شھاب: صحابي رضي الله عنه و روايته من باب مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة علي الراجح
مشكوة المصابيح (1377)
طارق بن شھاب: صحابي رضي الله عنه و روايته من باب مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة علي الراجح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1067
| الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا أربعة عبد مملوك أو امرأة أو صبي أو مريض |
بلوغ المرام |
375
| الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا أربعة : مملوك وامرأة وصبي ومريض |
المعجم الصغير للطبراني |
602
| ليس على النساء غزو ، ولا جمعة ، ولا تشييع جنازة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1067 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1067
1067۔ اردو حاشیہ:
➊ مستدرک حاکم میں یہ حدیث طارق بن شہاب بواسطہ ابوموسیٰٰ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ کئی ایک محدثین نے اس کو صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: [نيل الأوطار: 258/3]
➋ یہ حدیث مطلق اور عام ہے اور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بستیوں وغیرہ میں بھی جمعہ پڑھنا ضروری ہے۔ نیز قرآن اور حدیث میں کوئی ایسی صحیح دلیل موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ بستیوں میں جمعہ پڑھنا درست نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا قول مردود اور قرآن کے منافی اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے عمل کے خلاف ہے۔
➌ قران مقدس کا عموم بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [الجمعة: 9]
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا «جمعوا حيث كنتم» ”تم جہاں کہیں بھی ہو جمعہ پڑھا کرو۔“ [مصنف ابن أبى شيبة، حديث: 5068]
➊ مستدرک حاکم میں یہ حدیث طارق بن شہاب بواسطہ ابوموسیٰٰ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ کئی ایک محدثین نے اس کو صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: [نيل الأوطار: 258/3]
➋ یہ حدیث مطلق اور عام ہے اور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بستیوں وغیرہ میں بھی جمعہ پڑھنا ضروری ہے۔ نیز قرآن اور حدیث میں کوئی ایسی صحیح دلیل موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ بستیوں میں جمعہ پڑھنا درست نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا قول مردود اور قرآن کے منافی اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے عمل کے خلاف ہے۔
➌ قران مقدس کا عموم بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [الجمعة: 9]
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا «جمعوا حيث كنتم» ”تم جہاں کہیں بھی ہو جمعہ پڑھا کرو۔“ [مصنف ابن أبى شيبة، حديث: 5068]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1067]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 375
نماز جمعہ کا بیان
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کو باجماعت ادا کرنا ہر مسلم پر واجب ہے، مگر چار قسم کے لوگ اس سے مستثنی ہیں غلام، عورت، بچہ اور مریض۔“
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ طارق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ طارق کی یہی روایت حاکم نے ابوموسیٰ کے حوالے سے ذکر کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 375»
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کو باجماعت ادا کرنا ہر مسلم پر واجب ہے، مگر چار قسم کے لوگ اس سے مستثنی ہیں غلام، عورت، بچہ اور مریض۔“
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ طارق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ طارق کی یہی روایت حاکم نے ابوموسیٰ کے حوالے سے ذکر کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 375»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الجمعة للمملوك والمرأة، حديث:1067، والحاكم:1 /288 وصححه.* طارق بن شهاب صحابي، ومراسيل الصحابة مقبولة علي الراجح.» تشریح:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غلام‘ عورت‘ بچے اور مریض پر جمعہ فرض نہیں۔
اگر پڑھ لیں تو پھر انھیں ظہر کی نماز ادا نہیں کرنی پڑے گی ورنہ نماز ظہر ادا کریں گے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ» یہ کوفہ کے باشندے تھے۔
قبیلۂبجیلہ سے تعلق تھا‘ اس لیے کوفی اور بجلی کہلائے۔
ان کی نسبت احمسی بھی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی مگر آپ سے کچھ سنا نہیں۔
حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں ۳۳ یا ۳۴ غزوات میں شریک ہوئے۔
۸۲ ہجری میں وفات پائی۔
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الجمعة للمملوك والمرأة، حديث:1067، والحاكم:1 /288 وصححه.* طارق بن شهاب صحابي، ومراسيل الصحابة مقبولة علي الراجح.»
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غلام‘ عورت‘ بچے اور مریض پر جمعہ فرض نہیں۔
اگر پڑھ لیں تو پھر انھیں ظہر کی نماز ادا نہیں کرنی پڑے گی ورنہ نماز ظہر ادا کریں گے۔
«حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ» یہ کوفہ کے باشندے تھے۔
قبیلۂبجیلہ سے تعلق تھا‘ اس لیے کوفی اور بجلی کہلائے۔
ان کی نسبت احمسی بھی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی مگر آپ سے کچھ سنا نہیں۔
حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں ۳۳ یا ۳۴ غزوات میں شریک ہوئے۔
۸۲ ہجری میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 375]
Sunan Abi Dawud Hadith 1067 in Urdu
قيس بن مسلم الجدلي ← طارق بن شهاب البجلي