🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
246. باب الصلاة بعد الجمعة
باب: فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1129
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَأَى مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا صَنَعْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِذَلِكَ أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَخْرُجَ".
ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق، جسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی، جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو تم نے کیا ہے، اسے پھر دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ، جب تک کہ بات نہ کر لو یا نکل نہ جاؤ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کر لی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 18 (883)، (تحفة الأشراف: 11414)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/95، 99) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے بعد سنت گھر آ کر پڑھی جائے، اگر مسجد میں پڑھی جائے تو دوسری جگہ ہٹ کر پڑھے، یا درمیان میں کسی سے کچھ باتیں کر لے، یا کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرے جس سے لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ فرض اور سنت میں فرق و امتیاز ہو گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (883)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يزيد بن السائبصحابي
👤←👥عمر بن عطاء المكي
Newعمر بن عطاء المكي ← يزيد بن السائب
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمر بن عطاء المكي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1129
لا توصل صلاة بصلاة حتى يتكلم أو يخرج
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1129 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1129
1129۔ اردو حاشیہ:
اہل علم کے لئے ضروری اور بہتر ہے کہ مسئلہ بیان کرتے یا فتویٰ دیتے ہوئے وہ دلیل بیان کریں تاکہ سامعین کو علم بصیرت اور اطمینان و وثوق حاصل ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1129]