🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب رفع اليدين في الاستسقاء
باب: نماز استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1169
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَوَاكِي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ"، قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر) روتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: «اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل» یعنی اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزہ اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے نہ آنے والی ہو۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3141) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1507)
صححه ابن خزيمة (1416 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥يزيد بن صهيب الفقير، أبو عثمان
Newيزيد بن صهيب الفقير ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← يزيد بن صهيب الفقير
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبيد الطنافسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبيد الطنافسي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة يحفظ
👤←👥محمد بن أبي خلف السلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي خلف السلمي ← محمد بن عبيد الطنافسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1169
اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1169 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1169
1169۔ اردو حاشیہ:
➊ انسان کو اپنی انفرادی اور اجتماعی حاجات میں ہمیشہ اللہ ہی سے دعا کرنی چاہیے اور گڑگڑا کر بہ تکرار دعا کرنی چاہیے۔
➋ اپنے صالحین سے بھی دعا کرانی چاہیے جو کہ ایک شرعی اور مسنون وسیلہ ہے۔
➌ اس حدیث کے ایک نسخے میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ «أتيت النبى صلى الله عليه وسلم يواكي» اس کا ترجمہ یوں ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1169]

Sunan Abi Dawud Hadith 1169 in Urdu