یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب من قال أربع ركعات
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1182
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحُدِّثْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنْ الطُّوَر وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ سُورَةً مِنْ الطُّوَرِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دو رکعت) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1182]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اور لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قراءت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھے اور دعا کرتے رہے، حتیٰ کہ سورج صاف ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/134) (ضعیف)» (بلکہ منکر ہے کیوں کہ ابو جعفر رازی ضعیف ہیں اور ثقات کی مخالفت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال ابن حبان في ترجمة الربيع بن أنس :’’ والناس يتقون حديثه ما كان من رواية (أبي) جعفر عنه لأن فيھا اضطراب كثير ‘‘ (الثقات 4 / 228) وھو حسن الحديث في غير رواية أبي جعفر الرازي عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
إسناده ضعيف
قال ابن حبان في ترجمة الربيع بن أنس :’’ والناس يتقون حديثه ما كان من رواية (أبي) جعفر عنه لأن فيھا اضطراب كثير ‘‘ (الثقات 4 / 228) وھو حسن الحديث في غير رواية أبي جعفر الرازي عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1182
| صلى بهم فقرأ بسورة من الطور وركع خمس ركعات وسجد سجدتين ثم قام الثانية فقرأ سورة من الطور وركع خمس ركعات وسجد سجدتين ثم جلس كما هو مستقبل القبلة يدعو حتى انجلى كسوفها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1182 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1182
1182۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں پانچ رکوع کا ذکر ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
اس حدیث میں پانچ رکوع کا ذکر ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1182]
Sunan Abi Dawud Hadith 1182 in Urdu
أبو العالية الرياحي ← أبي بن كعب الأنصاري