Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا".
عبدالرحمٰن بن میسرہ حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھلے، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین تین بار دھلے، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: 11573)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 52 (442) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وھو في المسند للامام احمد: 4/ 132 ح 7320

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن ميسرة الحضرمي، أبو سلمة
Newعبد الرحمن بن ميسرة الحضرمي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
ثقة
👤←👥حريز بن عثمان الرحبي، أبو عون، أبو عثمان
Newحريز بن عثمان الرحبي ← عبد الرحمن بن ميسرة الحضرمي
ثقة رمي بالنصب
👤←👥عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، أبو المغيرة
Newعبد القدوس بن الحجاج الخولاني ← حريز بن عثمان الرحبي
ثقة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← عبد القدوس بن الحجاج الخولاني
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
121
توضأ فغسل كفيه ثلاثا ثم تمضمض واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا ثم غسل ذراعيه ثلاثا ثلاثا ثم مسح برأسه وأذنيه ظاهرهما وباطنهما
سنن أبي داود
122
توضأ فلما بلغ مسح رأسه وضع كفيه على مقدم رأسه فأمرهما حتى بلغ القفا ثم ردهما إلى المكان الذي بدأ منه
سنن ابن ماجه
442
توضأ فمسح برأسه وأذنيه ظاهرهما وباطنهما
سنن ابن ماجه
457
توضأ فغسل رجليه ثلاثا ثلاثا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 121 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 121
کانوں کے اندر اور باہر کا مسح
9: پھر اپنے دونوں کانوں (کے اندر باہر) کا مسح ایک دفعہ کریں۔ [النسائي 1/73 ح101 وسنده حسن، سنن ابي داود: 121 وسنده حسن، 137 وسنده حسن، ابن خزيمه: 151، 167 وسنده حسن والزيادة منه، عامر بن شقيق حسن الحديث وثقه الجمهور، مصنف ابن ابي شيبه 1/ 18 ح 176 وسنده حسن، السنن الكبريٰ للنسائي: 161]
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما کانوں کے اندر اور باہر کا مسح کرتے تھے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي ج 1 ص 64 وسنده صحيح]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 200 تا 204)
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 200]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 122
گردن کا مسح علیحدہ سے ثابت نہیں
«. . . عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ . . .»
. . . مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 122]
فوائد و مسائل:
گردن کا مسح علیحدہ سے ثابت نہیں ہے بلکہ سر کا مسح کرتے ہوئے ہاتھوں کو گدی تک لے جانا ہی ثابت ہے اور یہی عمل مسنون اور ماجور ہے۔ ہاتھوں کو ایک بار پیچھے لے جانا اور پھر واپس شروع کی جگہ پر لے آنا سب ایک ہی مسح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 122]