سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الجمع بين الصلاتين
باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، أَنَّ مُؤَذِّنَ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"الصَّلَاةُ، قَالَ: سِرْ سِرْ حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غُيُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ فَسَارَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ هَذَا بِإِسْنَادِهِ.
نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: نماز (پڑھ لی جائے) (تو) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7290) (صحیح)» (لیکن اس حدیث میں وارد لفظ «قبل غیوب الشفق» ”شفق غائب ہونے سے قبل“ شاذ ہے، صحیح لفظ «حتی غاب الشفق» ”شفق غائب ہونے کے بعد“ ہے جیسا کہ حدیث نمبر: 1207 میں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله قبل غيوب الشفق شاذ والمحفوظ بعد غياب الشفق نافع نحو هذا بإسناده
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر الحديث الآتي (123)
وانظر الحديث الآتي (123)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1212
| الصلاة قال سر سر حتى إذا كان قبل غيوب الشفق نزل فصلى المغرب |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1212 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1212
1212۔ اردو حاشیہ:
➊ اس واقعے میں بظاہر ”جمع بین صلواتین“ کی یہ صورت ہے کہ پہلی نماز اپنے آخری وقت میں اور دوسری اپنے اول وقت میں پڑھی گئی، جسے جمع صوری کہا جاتا ہے لیکن اس روایت میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک «قبل غيو ب الشفق . . .» کے الفاظ شاذ ہیں۔ محفوظ الفاظ «بعد غيو ب الشفق . . .» ہی ہیں۔ جس سے جمع حقیقی یعنی جمع تاخیر ہی کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس طرح جمع کرنا ثابت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: سنن ابی داود حدیث [1208] کے فوائد۔ آگے آنے والی حدیث نمبر [1217] میں خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا صحیح و مشہور ثابت شدہ عمل بھی یہی ہے کہ آپ نے مغرب کی نماز غروب شفق کے بعد پڑھی تھی۔
➋ ”جب کسی کام میں جلدی ہوتی“ والی بات عام کاموں سے متعلق نہیں، بلکہ سفر سے خاص ہے جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
➊ اس واقعے میں بظاہر ”جمع بین صلواتین“ کی یہ صورت ہے کہ پہلی نماز اپنے آخری وقت میں اور دوسری اپنے اول وقت میں پڑھی گئی، جسے جمع صوری کہا جاتا ہے لیکن اس روایت میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک «قبل غيو ب الشفق . . .» کے الفاظ شاذ ہیں۔ محفوظ الفاظ «بعد غيو ب الشفق . . .» ہی ہیں۔ جس سے جمع حقیقی یعنی جمع تاخیر ہی کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس طرح جمع کرنا ثابت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: سنن ابی داود حدیث [1208] کے فوائد۔ آگے آنے والی حدیث نمبر [1217] میں خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا صحیح و مشہور ثابت شدہ عمل بھی یہی ہے کہ آپ نے مغرب کی نماز غروب شفق کے بعد پڑھی تھی۔
➋ ”جب کسی کام میں جلدی ہوتی“ والی بات عام کاموں سے متعلق نہیں، بلکہ سفر سے خاص ہے جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1212]
عبد الله بن واقد الهروي ← عبد الله بن عمر العدوي