🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب في ليلة القدر
باب: شب قدر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْتُ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي، فَقَالَ:" ادْخُلْ"، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" نَاوِلْنِي نَعْلِي"، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ:" كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً" قُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ:" كَمْ اللَّيْلَةُ؟ فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ:" هِيَ اللَّيْلَةُ"، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ:" أَوِ الْقَابِلَةُ، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اندر آ جاؤ، میں اندر داخل ہو گیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے میرا جوتا دو، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آج کون سی رات ہے؟، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی شب قدر ہے، پھر لوٹے اور فرمایا: یا کل کی رات ہو گی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5143)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3401، 3402)، مسند احمد (3/495) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (في الكبريٰ :3401)
ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم : 145)
و حديث النسائي في الكبري (3402 وسنده حسن) يغني عنه و فيه : بل القابلة ثلاث و عشرين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أنيس الجهني، أبو فاطمة، أبو يحيىصحابي
👤←👥ضمرة بن عبد الله الجهني
Newضمرة بن عبد الله الجهني ← عبد الله بن أنيس الجهني
مقبول
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← ضمرة بن عبد الله الجهني
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الرحمن بن إسحاق العامري
Newعبد الرحمن بن إسحاق العامري ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← عبد الرحمن بن إسحاق العامري
ثقة
👤←👥حفص بن عبد الله السلمي، أبو سهل، أبو عمرو
Newحفص بن عبد الله السلمي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن حفص السلمي، أبو علي
Newأحمد بن حفص السلمي ← حفص بن عبد الله السلمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2775
أريت ليلة القدر ثم أنسيتها وأراني صبحها أسجد في ماء وطين
سنن أبي داود
1380
انزل ليلة ثلاث وعشرين فقلت لابنه كيف كان أبوك يصنع قال كان يدخل المسجد إذا صلى العصر فلا يخرج منه لحاجة حتى يصلي الصبح فإذا صلى الصبح وجد دابته على باب المسجد فجلس عليها فلحق بباديته
سنن أبي داود
1379
كنت في مجلس بني سلمة وأنا أصغرهم فقالوا من يسأل لنا رسول الله عن ليلة القدر وذلك صبيحة إحدى وعشرين من رمضان فخرجت فوافيت مع رسول الله صلاة المغرب ثم قمت بباب بيته فمر بي فقال ادخل فدخلت فأتي بعشائه فرآني أكف عنه من
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1379 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1379
1379. اردو حاشیہ:
➊ بایئسویں کی رات اس اعتبار سے لیلۃ القدر ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ آئندہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1381) میں ہے کہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ آخری نویں۔ساتویں۔ اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ لہذا اگر مہینہ تیس راتوں کا ہوتو آخری نویں رات بایئسیویں تاریخ بنتی ہے۔ واللہ اعلم۔
➋ استاد۔ معلم ومربی سے مسائل دریافت کرنے کا ادب۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1379]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1380
شب قدر کا بیان۔
عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیئسویں شب کو آیا کرو۔‏‏‏‏ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آ جاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1380]
1380. اردو حاشیہ:
➊ عبادت کے خاص اجر کےلئے دنیا کی تین مساجد خاص ہیں۔ اور اس مقصد سے ان کا سفر کرنا مشروع ہے۔ مسجد الحرام مسجد نبوی اور بیت المقدس اور بغرض فضیلت عبادت کسی اور مقام کاسفر کرنا ناجائز ہے۔ نیز اوقات فضیلت میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا مرغوب ومطلوب ہے۔
➋ خیال رہے کہ اوقات فضیلت بھی شریعت نے بیان کردیئے ہیں۔ یہ قیاسی مسئلہ نہیں ہے کہ جیسے کہ آجکل لوگوں نے میلاد ا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور معراج کی رات اور دن کو اپنی طرف سے خاص فضیلت کا حامل تصور کرلیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1380]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2775
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی اور میں نے اس کی صبح اپنے آپ کو پانی اور مٹی میں سجدے کرتے دیکھا۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں تیئسویں کی رات ہم پر بارش برسی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پانی اور مٹی کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر موجود تھا عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2775]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانی اور مٹی والی علامت اکیسویں رات کی بیان کی ہے اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تئیسویں رات کی،
معلوم ہوتا ہے اس نشانی کا ظہور مختلف اوقات میں مختلف طاق راتوں میں ہوا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2775]