🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب الدعاء
باب: دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ،عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 105 (3556)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 13 (3865)، (تحفة الأشراف:4494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/438) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان الفارسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سلمان الفارسي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن ميمون التميمي، أبو علي، أبو العوام
Newجعفر بن ميمون التميمي ← أبو عثمان النهدي
مقبول
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← جعفر بن ميمون التميمي
ثقة مأمون
👤←👥مؤمل بن الفضل الجزري، أبو سعيد
Newمؤمل بن الفضل الجزري ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3556
الله حيي كريم يستحيي إذا رفع الرجل إليه يديه أن يردهما صفرا خائبتين
سنن أبي داود
1488
ربكم حيي كريم يستحيي من عبده إذا رفع يديه إليه أن يردهما صفرا
سنن ابن ماجه
3865
ربكم حيي كريم يستحيي من عبده أن يرفع إليه يديه فيردهما صفرا أو قال خائبتين
بلوغ المرام
1344
إن ربكم حيي كريم يستحي من عبده إذا رفع إليه يديه أن يردهما صفرا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1488 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1488
1488. اردو حاشیہ: اللہ عزوجل کا حیا کرنا اس کی خاص صفت ہے۔ اور اسی طرح ہے جس طرح اس کی ذات کو لائق ہے۔ اہل السنۃ کا اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پرایمان ہے۔ ان کی تفصیل وکنہ میں جانا اور پڑنا درست نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1488]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1344
ذکر اور دعا کا بیان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا پروردگار بڑا شرم و حیاء والا، سخی و کریم ہے۔ جب بندہ اس کے حضور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے شرم آتی ہے۔ نسائی کے سوا چاروں نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1344»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء حديث:1488، والترمذي، الدعوات، حديُ:3556، وابن ماجه، الدعاء، حديث:3865، والحاكم:1 /497 جعفر بن ميمون ضعّفه الجمهور، وللحديث شواهد ضعيفة.»
تشریح:
1.مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابن ماجہ (اردو) کی تحقیق میں اسے حسن قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ موقوف ہے‘ نیز شیخ البانی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں: «‏‏‏‏إِسْنَادُ الْمَوْقُوفِ أَصَحُّ» مذکورہ روایت سند کے لحاظ سے موقوفاً زیادہ درست ہے۔
لیکن پھر انھوں نے اس کے مرفوع شواہد کا تذکرہ بھی کیا ہے اور آخر میں لکھا ہے: «فَالْحَدِیثُ صَحِیحٌ قَطْعًا» یہ حدیث قطعی طور پر صحیح ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (المشکاۃ للألباني‘ التحقیق الثاني:۲ /۴۱۳‘ رقم: ۲۱۸۴‘ وسنن ابن ماجہ، (اردو) طبع دارالسلام بتحقیق زبیر علیزئي‘ رقم: ۳۸۶۵) 2.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے اور یہ آداب دعا میں سے ہے۔
3.اللہ کی بارگاہ میں اٹھے ہوئے بندۂ محتاج کے ہاتھ خالی واپس نہیں کیے جاتے۔
4.دعائے استسقا کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ عام معمول سے زیادہ ہی بلند فرماتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی جو نفی ہے‘ اس سے مراد استسقا کی طرح رفع الیدین میں مبالغہ کرنے کی نفی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1344]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3865
دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب «حی» (بڑا باحیاء، شرمیلا) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3865]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی بندے کی ہر دعا قبول فرماتا ہے (بشرطیکہ کوئی ایسی وجہ موجود نہ ہو جو قبولیت کے راستے میں رکاوٹ ہو۔)
لیکن قبولیت کا اثر بعض اوقات دنیا میں ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات آخرت میں۔

(2)
دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے چاہئیں۔

(3)
اس حدیث میں اللہ تعالی کی صفت علو کا اثبات ہے، یعنی وہ اپنی ذات کے لحاظ سے عرش پر مستوی ہے، ہر جگہ موجود نہیں، البتہ اس کا علم، اس کی قدرت اور رحمت ہر شے کو محیط ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3865]