🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب الدعاء بظهر الغيب
باب: اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1534
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ".
ام الدرادء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے (غائبانہ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1534]
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے آقا سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب کوئی شخص اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں «آمِينَ» اے اللہ! قبول فرما اور تجھے بھی یہ کچھ حاصل ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 23 (2732)، (تحفة الأشراف:10988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 5 (2895)، مسند احمد (5/195) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2732)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥هجيمة بنت حيي الأوصابية، أم الدرداء
Newهجيمة بنت حيي الأوصابية ← عويمر بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥طلحة بن عبيد الله الخزاعي، أبو المطرف
Newطلحة بن عبيد الله الخزاعي ← هجيمة بنت حيي الأوصابية
ثقة
👤←👥موسى بن باذان الحجازي
Newموسى بن باذان الحجازي ← طلحة بن عبيد الله الخزاعي
مجهول
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← موسى بن باذان الحجازي
ثقة ثبت
👤←👥رجاء بن مرجى الغفاري، أبو محمد، أبو أحمد
Newرجاء بن مرجى الغفاري ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6929
دعوة المرء المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة عند رأسه ملك موكل كلما دعا لأخيه بخير قال الملك الموكل به آمين ولك بمثل قال فخرجت إلى السوق فلقيت أبا الدرداء فقال لي مثل ذلك
صحيح مسلم
6928
من دعا لأخيه بظهر الغيب قال الملك الموكل به آمين ولك بمثل
سنن أبي داود
1534
إذا دعا الرجل لأخيه بظهر الغيب قالت الملائكة آمين ولك بمثل
سنن ابن ماجه
2895
دعوة المرء مستجابة لأخيه بظهر الغيب عند رأسه ملك يؤمن على دعائه كلما دعا له بخير قال آمين ولك بمثله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1534 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1534
1534. اردو حاشیہ:
➊ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو بیویاں تھیں۔ اور دونوں کی کنیت ام درداء تھی۔ بڑی صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں ان کا نام خیرہ ہے اور جن کا اس سند میں ذکر ہے۔ وہ تابعیہ ہیں ان کا نام ہجمیہ یا جہیمہ یا جمانہ وارد ہے۔ رحمہا اللہ تعالیٰ۔
➋ اس میں ترغیب ہے کہ انسان اپنے قریبی اور بعیدی تمام عزیزوں کو بلکہ عام مسلمانوں کی بھی اپنی دعائوں میں شامل رکھا کرے تاکہ فرشتے اس کے لئے دُعا کریں۔ اور فرشتوں کی دُعا (ان شاء اللہ) قبولیت کے لئے زیادہ مدد گار ہوگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1534]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2895
حاجی کی دعا کی فضیلت۔
صفوان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2895]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
حج وعمرہ کے لیے جانے والوں سے دعا کی درخواست کرنی چاہیے۔

(2)
افضل مقامات پر دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔

(3)
کسی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے دعا کرنا بہت ثواب کا کام ہے اور اللہ کی رحمت و برکت کا باعث ہے۔

(4)
  فرشتوں کا دعا کرنا قبولیت کا اشارہ ہے کیونکہ فرشتے اللہ کے حکم سے ہی دعا کرتے ہیں۔

(5)
افضل شخص اپنے سے کم درجے کے آدمی سے دعا کی درخواست کر سکتا ہے۔

(6)
اپنے سے افضل آدمی کے حق میں دعاکرنا درست ہے-
(7)
جن اوقات ومقامات میں دعا کی قبولیت کی زیادہ امید ہے ان میں اپنے بزرگوں ے لیے دوستوں اور عزیزوں کے لیے دعا کرنی چاہیے اگرچہ انہوں نے دعا کرنے کو نہ بھی کہا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2895]

Sunan Abi Dawud Hadith 1534 in Urdu