سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب مَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَحَدِّ الْغِنَى
باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ، قَالَ:" وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ"، زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ:" لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ"، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَجَعَلَا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَصَحُّ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1632]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور حدیث بیان کی) جیسے کہ پہلے گزری ہے (اور) فرمایا: ”لیکن مسکین تو وہ ہے جو (سوال کی عار سے) بچتا اور پاک ہو۔“ مسدد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا کہ: ”اس کے پاس اس قدر نہ ہو جو کہ اس کی کفایت کرے اور وہ لوگوں سے مانگتا بھی نہ ہو اور نہ لوگوں کو اس کی ضرورت کا علم ہو کہ وہ اس کو صدقہ دیں، اسی قسم کا آدمی ”محروم“ کہلاتا ہے۔“ مسدد نے اپنی روایت میں «الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ» ”پاکدامن جو سوال نہیں کرتا“ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے ”محروم“ کا بیان زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 76 (2574)، (تحفة الأشراف:15277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/260) (صحیح) دون قوله: ’’فذاك المحروم‘‘ فإنه مقطوع من كلام الزهري»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فذاك المرحوم فإنه مقطوع من كلام الزهري ق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2574)
الزھري مدلس وعنعن
وحديث البخاري (1476) ومسلم (1039) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
ُ
إسناده ضعيف
نسائي (2574)
الزھري مدلس وعنعن
وحديث البخاري (1476) ومسلم (1039) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
ُ
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1632 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1632
1632. اردو حاشیہ: (المحروم) کا زکر سورہ معارج میں آیا ہے <قرآن>۔(وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿٢٤﴾ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)(المعارج 2
➎ 24) اور (کامیاب مومنین وہ لوگ ہیں) جن کے مالوں میں ایک معلوم حق ہے۔سوال کرنے والے کا اور محروم کا یعنی ایسا مساکین جو سوال تو نہیں کرتا لیکن صدقے کا مستحق ہوتا ہے۔
➎ 24) اور (کامیاب مومنین وہ لوگ ہیں) جن کے مالوں میں ایک معلوم حق ہے۔سوال کرنے والے کا اور محروم کا یعنی ایسا مساکین جو سوال تو نہیں کرتا لیکن صدقے کا مستحق ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1632]
Sunan Abi Dawud Hadith 1632 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي