سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب مَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَحَدِّ الْغِنَى
باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْغِنَى؟ قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ". قَالَ يَحْيَى: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ حِفْظِي: أَنَّ شُعْبَةَ لَا يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بے نیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے“، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں“۔ یحییٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ۱؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1626]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مانگے، حالانکہ اس کے پاس بقدر کفایت موجود ہو، تو قیامت کے روز وہ آئے گا اور اس کا چہرہ زخمی ہو گا یا اس پر خراشیں ہوں گی یا نوچا ہوا ہو گا۔“ کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! غنی ہونے کی کیا مقدار ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا۔“ یحییٰ رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن عثمان نے سفیان رحمہ اللہ سے کہا: ”مجھے تو ایسے یاد ہے کہ شعبہ رحمہ اللہ، حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتا ہے“، تو سفیان رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”ہمیں یہ روایت زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 22 (650)، سنن النسائی/الزکاة 87 (2593)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1680) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حکیم بن جبیر ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت زبید کر رہے ہیں جس سے یہ ضعف جاتا رہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (650،651) نسائي (2593) ابن ماجه (1840)
حكيم بن جبير ضعيف كما قال النسائي (الضعفاء : 129) وغيره،
انظر تحفة الأقوياء (83) و قال العيني : ضعفه الجمھور (عمدة القاري 95/11) و قال الھيثمي : ھو متروك،ضعفه الجمھور(مجمع الزوائد 320/5،وفي المطبوع : حكيم بن عبيد وھو خطأ والصواب : حكيم بن جبير) وللثوري (130) فيه تدليس عجيب لأنه لم يذكر السند إلٰي آخره !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
إسناده ضعيف
ترمذي (650،651) نسائي (2593) ابن ماجه (1840)
حكيم بن جبير ضعيف كما قال النسائي (الضعفاء : 129) وغيره،
انظر تحفة الأقوياء (83) و قال العيني : ضعفه الجمھور (عمدة القاري 95/11) و قال الھيثمي : ھو متروك،ضعفه الجمھور(مجمع الزوائد 320/5،وفي المطبوع : حكيم بن عبيد وھو خطأ والصواب : حكيم بن جبير) وللثوري (130) فيه تدليس عجيب لأنه لم يذكر السند إلٰي آخره !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَنَّهُ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ"، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ، مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا"، قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ لَلِقْحَةٌ: لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ، أَوْ كَمَا قَالَ: حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ كَمَا قَالَ مَالِكٌ.
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے: میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ۱؎“، اسدی کہتے ہیں: میں نے (اپنے جی میں) کہا: ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، «أو كما قال» یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1627]
بنو اسد کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں اور میرے گھر والوں نے بقیع الغرقد (موجودہ قبرستان مدینہ) کے پاس پڑاؤ کیا، تو میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ کہ اسے ہم کھا سکیں“، اور پھر وہ اپنی ضروریات گنوانے لگے۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک شخص کو پایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو تمہیں دوں۔“ پھر وہ آدمی پشت پھیر کر چلا گیا اور وہ ناراض تھا اور کہہ رہا تھا: ”قسم میری عمر کی! آپ جسے چاہتے ہیں دے دیتے ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس لیے مجھ پر غصے ہو رہا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں اسے دوں؟ تم میں سے جب کوئی سوال کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس چالیس درہم یا اس کے مساوی کچھ ہو تو اس نے چمٹ کر (بے جا) مانگا ہے۔“ اس اسدی شخص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں نے کہا: ”ہماری اونٹنی تو ایک اوقیہ سے بہت بہتر ہے، اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔“ وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور کشمش آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ہمیں بھی عنایت فرمایا، یا اسی طرح سے کہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کر دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”ثوری نے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے کہ مالک نے کہا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 90 (2597)، (تحفة الأشراف:15640)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة 1(3)، مسند احمد (4/36،5/430) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں الحاف ہے یعنی الحاح اور شدید اصرار، ایسا سوال کرنا قرآن کے مطابق ناپسندیدہ عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1849)
أخرجه النسائي (2597 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1849)
أخرجه النسائي (2597 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ"، فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ هِشَامٌ: خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَسْأَلْهُ شَيْئًا، زَادَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَتِ الْأُوقِيَّةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا“، میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ (ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے)، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ۱؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1628]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک «أُوقِيَّةٌ» (چالیس درہم) کے مساوی موجود ہو تو اس کا سوال «إِلْحَافٌ» (بے جا اصرار ہے) ہے۔“ میں نے کہا: ”میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔“ ہشام کی روایت میں ہے: ”چالیس درہموں سے بہت بہتر ہے۔“ چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ ہشام کی روایت میں اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 89 (2596)، (تحفة الأشراف:4121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا جیسا کہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (2596 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2447 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (2596 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2447 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1629
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلَاهُ، فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا، وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا، فَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ فَلَفَّهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ، وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتُرَانِي حَامِلًا إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لَا أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ؟ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ"، وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ، قَالَ:" قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ"، وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبْعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ"، وَكَانَ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا عَلَى هَذِهِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي ذَكَرْتُ.
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے“۔ (ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے ”جہنم کی آگ“ کے بجائے ”جہنم کا انگارہ“ کہا ہے)۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے؟ (نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے“۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1629]
سیدنا سہل ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ تو جو کچھ انہوں نے مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دینے کا حکم دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں اس کی ایک تحریر دے دو، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو، جو انہوں نے مانگا، لکھ دیا۔ چنانچہ اقرع رضی اللہ عنہ نے وہ خط لیا، اپنی پگڑی میں لپیٹا اور چل دیا۔ مگر عیینہ وہ خط لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور کہنے لگا: ”اے محمد! آپ کا کیا خیال ہے کہ «صَحِيْفَةُ الْمُتَلَمِّسِ» ”متلمس کے خط“ کی طرح میں یہ خط لے کر اپنی قوم کے پاس چلا جاؤں، نہ معلوم اس میں کیا ہے؟“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی تلمیح کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مانگتا ہے، حالانکہ بقدر کفایت اس کے پاس موجود ہو تو وہ اپنے لیے آگ ہی کا اضافہ کرتا ہے۔“ نفیلی نے دوسری جگہ کہا: ”جہنم کے انگارے زیادہ کرتا ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کیا (مقدار) ہے جو انسان کو کافی ہوتی ہے (اور سوال سے غنی بنا دیتی ہے؟)“ دوسری جگہ نفیلی کے الفاظ اس طرح تھے: ”غنا کی وہ کیا حد ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا لائق نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس صبح و شام کا کھانا موجود ہو۔“ نفیلی کے الفاظ دوسری جگہ یہ تھے: ”جس کے پاس دن اور رات کے لیے پیٹ بھر کھانا موجود ہو۔“ (امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں): ”نفیلی نے ہمیں یہ روایت مختصر طور پر اسی طرح بیان کی تھی جو ذکر کی گئی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/180، 181) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: متلمس ایک شاعر گزرا ہے، اس نے بادشاہ عمرو بن ہند کی ہجو کی تھی، بادشاہ نے کمال ہوشیاری سے اپنے عامل کے نام خط لکھ کر اس کو دیا اور کہا کہ تم اس لفافے کو لے کر فلاں عامل کے پاس جاؤ، وہ تمہیں انعام سے نوازے گا، خط میں ہجو کے جرم میں اسے قتل کر دینے کا حکم تھا، راستہ میں متلمس کو شبہہ ہوا، اس نے لفافہ پھاڑ کر خط پڑھا تو اس میں اس کے قتل کا حکم تھا، چنانچہ اس نے خط پھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی جان بچا لی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1848)
صححه ابن خزيمة (2391 وسنده صحيح، 2545)
مشكوة المصابيح (1848)
صححه ابن خزيمة (2391 وسنده صحيح، 2545)
حدیث نمبر: 1630
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1630]
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور لمبی حدیث بیان کی اور کہا: پھر ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ ”مجھے صدقہ میں سے کچھ دیجیے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز وجل نے صدقات کی تقسیم کا مسئلہ نبی یا کسی دوسرے کی پسند پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے بارے میں خود ہی فیصلہ فرمایا ہے اور انہیں آٹھ قسم کے افراد میں تقسیم فرما دیا ہے۔ اگر تم ان میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیے دیتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3654) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: ان آٹھ قسموں کا ذکر اس آیت میں ہے: «إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم» (سورة التوبة: ۶۰)، ” زکاۃ صرف فقراء، مساکین اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والاہے “۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الإفريقي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
إسناده ضعيف
الإفريقي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
حدیث نمبر: 1631
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1631]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں جسے ایک کھجور، دو کھجور اور ایک لقمہ یا دو لقمے پلٹا دیں بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے مانگتا نہ ہو اور نہ لوگوں کو اس کے بارے میں اندازہ ہو کہ اسے دیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12355)، وقد أخرجہ: خ /الزکاة 53 (1476)، وتفسیر البقرة 48 (4539)، صحیح مسلم/الزکاة 34 (1039)، سنن النسائی/الزکاة 76 (2572)، موطا امام مالک/ صفة النبی 5 (7)، مسند احمد (2/260، 316، 393، 445، 457)، سنن الدارمی/الزکاة 2 (1656) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد عند البخاري (1476) ومسلم (1039)
وللحديث شاھد عند البخاري (1476) ومسلم (1039)
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ، قَالَ:" وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ"، زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ:" لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ"، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَجَعَلَا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَصَحُّ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1632]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور حدیث بیان کی) جیسے کہ پہلے گزری ہے (اور) فرمایا: ”لیکن مسکین تو وہ ہے جو (سوال کی عار سے) بچتا اور پاک ہو۔“ مسدد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا کہ: ”اس کے پاس اس قدر نہ ہو جو کہ اس کی کفایت کرے اور وہ لوگوں سے مانگتا بھی نہ ہو اور نہ لوگوں کو اس کی ضرورت کا علم ہو کہ وہ اس کو صدقہ دیں، اسی قسم کا آدمی ”محروم“ کہلاتا ہے۔“ مسدد نے اپنی روایت میں «الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ» ”پاکدامن جو سوال نہیں کرتا“ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے ”محروم“ کا بیان زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 76 (2574)، (تحفة الأشراف:15277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/260) (صحیح) دون قوله: ’’فذاك المحروم‘‘ فإنه مقطوع من كلام الزهري»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فذاك المرحوم فإنه مقطوع من كلام الزهري ق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2574)
الزھري مدلس وعنعن
وحديث البخاري (1476) ومسلم (1039) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
ُ
إسناده ضعيف
نسائي (2574)
الزھري مدلس وعنعن
وحديث البخاري (1476) ومسلم (1039) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
ُ
حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ، فَسَأَلَاهُ مِنْهَا، فَرَفَعَ فِينَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ".
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1633]
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے دو آدمیوں نے بتایا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوپر سے نیچے (سر سے پاؤں) تک دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ہم دونوں طاقتور ہیں، تو فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دیے دیتا ہوں مگر (حقیقت یہ ہے کہ) اس میں غنی اور طاقتور کما سکنے والے کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 91 (2599)، (تحفة الأشراف:15635)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/224، 5/362)، (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1832)
أخرجه النسائي (2599 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1832)
أخرجه النسائي (2599 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْأَنْبَارِيُّ الْخُتُّلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ، وَالْأَحَادِيثُ الْأُخَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ وَبَعْضُهَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ، وقَالَ عَطَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ: أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَقَالَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِقَوِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے (حلال ہے)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں «لذي مرة سوي» کے بجائے «لذي مرة قوي» کے الفاظ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں «لذي مرة قوي» اور بعض میں «لذي مرة سوي» کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: «إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي» ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1634]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی غنی کے لیے حلال نہیں ہے اور نہ کسی طاقتور صحیح سالم کے لیے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”اس حدیث کو سفیان نے سعد بن ابراہیم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے کہ ابراہیم (ابن سعد) نے۔ اور شعبہ نے سعد سے یہ لفظ روایت کیے ہیں «لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ» یعنی «سَوِيٍّ» کی جگہ «قَوِيٍّ» کہا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض دیگر احادیث میں «لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ» اور بعض میں «لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ» آیا ہے۔“ عطاء بن زہیر کہتے ہیں کہ: ”میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان کے لفظ تھے «لَا تَحِلُّ لِقَوِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ» ۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 23 (652)، (تحفة الأشراف:8626)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 192)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1679) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1830)
مشكوة المصابيح (1830)