🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب في الاستعفاف
باب: سوال سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1648
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ:" الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ"، وقَالَ أَكْثَرُهُمْ: عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ،" الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ"، وقَالَ وَاحِدٌ: عَنْ حَمَّادٍ،" الْمُتَعَفِّفَةُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» (اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے)، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں: «اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے (یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 18 (1429)، صحیح مسلم/الزکاة 32 (1033)، سنن النسائی/الزکاة 52 (2534)، (تحفة الأشراف:8337)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة 2 (8)، مسند احمد (2/97)، سنن الدارمی/الزکاة 22 (1692) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایوب کے تلامذہ نے ایوب سے اس حدیث میں اختلاف کیا ہے بعض رواۃ (جیسے حماد بن زید وغیرہ) نے ایوب سے «اليد العليا المنفقة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے جیسا کہ مالک نے روایت کی ہے، اس کے برخلاف عبدالوارث نے ایوب سے «اليد العليا المتعففة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
۲؎: یعنی حماد کے تلامذہ نے بھی حماد سے روایت میں اختلاف کیا ہے ان کے اکثر تلامذہ نے ان سے «المنفقة» کا لفظ روایت کیا ہے، اور ایک راوی نے جو مسدد بن مسرہد ہیں ان سے «المتعففة» کا لفظ روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق ورواية المتعففة شاذة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1429) صحيح مسلم (1033)
قوله: ’’المتعففة‘‘ شاذ

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2534
اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا المنفقة واليد السفلى السائلة
صحيح البخاري
1429
اليد العليا خير من اليد السفلى اليد العليا هي المنفقة والسفلى هي السائلة
صحيح مسلم
2385
اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا المنفقة والسفلى السائلة
سنن أبي داود
1648
اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا المنفقة والسفلى السائلة
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
478
اليد العليا خير من اليد السفلى، واليد العليا المنفقة، والسفلى السائلة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1648 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1648
1648. اردو حاشیہ: نیچے والے ہاتھ کو اعلیٰ اور افضل قراردینا بعض صوفیاء کی خود ساختہ بات ہے۔بقول ان کے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چونکہ غنی پر اپنے مال کا حق (صدقہ) دینا واجب ہوتا ہے۔اور جب تک وہ دے نہ چکے اور کوئی لے نہ لے وہ اپنے اس حق لازم سے بُری نہیں ہوسکتا۔چونکہ لینے والا اس کا مال لے کر گویا احسان کرتا اور اسے اس کے حق واجب سے بری کرتا ہے۔ اس لئے وہ افضل ہوا مگر بقول علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ یہ بات فطرت عرف اور شرع سب لہاظ سے باطل ہے۔الف)خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینے والے ہاتھ کو افضل فرمایا ہے۔جو اس رائے کے باطل ہونے کی صریح دلیل ہے۔(ب) آپ نے اسے نیچے والے ہاتھ کے بالمقابل خیر اور افضل فرمایا ہے۔ اور بلاشبہ دینا افضل ہے۔ نہ کہ لینا۔(ج)عرف ومعنی کے اعتبار سے بھی دینے والے کا ہاتھ سائل کے مقابلے میں افضل ہوا کرتا ہے۔(د)عطا ایک صفت مدح ہے۔جو انسان کے غنا کرم اور احسان کی دلیل ہے۔اس کے بالمقابل لینا ایک صفت نقص وعیب ہے جو فقر وحاجت مندی کا مظہر ہوتی ہے۔لہذا ان لوگوں کا یہ معنی کہ لینے والا ہاتھ افضل ہوتا ہے۔کسی طرح بھی معقول نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1648]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 478
سائل کو دینے کو ترغیب
«. . . 255- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو على المنبر وهو يذكر الصدقة والتعفف عن المسألة: اليد العليا خير من اليد السفلى، واليد العليا المنفقة، والسفلى السائلة. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر صدقے اور مانگنے سے اجتناب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 478]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1429، ومسلم 94/1033، من حديث مالك به]

تفقه:
➊ شرعی عذر کے بغیر مانگنا ممنوع ہے۔
➋ مستحق شخص کی امداد کرنے والا شخص افضل ہے۔
➌ لوگوں کی اصلاح کے لئے منبر پر مسائل بیان کرنا جائز بلکہ بہتر ہے۔
➍ اللہ کے راستے میں صدقات دیتے رہنا اہل ایمان کی نشانی ہے۔
➎ محنت کر کے مال و دولت کمانا تاکہ اس میں سے اللہ کے راستے میں، اپنے آپ پر، اپنے اہل وعیال اور دوست احباب پر خرچ کیا جائے، یہ بہت پسندیدہ کام ہے۔
➏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لايفتح الانسان عليٰ نفسه باب مسالته، الا فتح الله عليه باب فقر، يأخذ الرجل حبله فيعمد إلى الحبل فيحتطب عليٰ ظهره فيأكل به خير له من أن يسأل الناس معطيً أو ممنوعًا۔» جو شخص اپنے آپ پر سوال (لوگوں سے مانگنے) کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اس پر فقر (غربت) کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ آدمی اپنی رسی لے کر پہاڑ پر چڑھے پھر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں (رکھ کر) لے آئے تو اُس سے (یعنی انھیں بیچ کر) کھائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، کوئی اسے دے اور کوئی دھتکار دے۔ [مسند أحمد 2/418 ح9421 وسنده صحيح]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 255]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1429
1429. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ منبر پر تشریف فر تھے اور آپ نے صدقہ کرنے، سوال سے اجتناب کرنے اور دست سوال پھیلانے کا ذکر کیا (اس دوران میں آپ نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچےوالے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والاہاتھ خرچ کرنے والا اورنیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1429]
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری نے باب منعقدہ کے تحت ان احادیث کو لاکر یہ ثابت فرمایا کہ ہر مرد مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صاحب دولت بن کر اور دولت میں سے اللہ کا حق زکوٰۃ ادا کرکے ایسا رہنے کی کوشش کرے کہ اس کا ہاتھ ہمیشہ اوپر کا ہاتھ رہے اور تازیست نیچے والا نہ بنے، یعنی دینے والا بن کر رہے نہ کہ لینے والا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا۔
حدیث میں اس کی بھی ترغیب ہے کہ احتیاج کے باوجود بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا چاہیے، بلکہ صبرو استقلال سے کام لے کر اپنے توکل علی اللہ اور خود داری کو قائم رکھتے ہوئے اپنی قوت بازو کی محنت پر گزارہ کرناچاہیے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1429]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1429
1429. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ منبر پر تشریف فر تھے اور آپ نے صدقہ کرنے، سوال سے اجتناب کرنے اور دست سوال پھیلانے کا ذکر کیا (اس دوران میں آپ نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچےوالے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والاہاتھ خرچ کرنے والا اورنیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1429]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں اوپر والے اور نیچے والے ہاتھ کی تفسیر بھی بیان ہوئی ہے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تفسیر راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی ہے، اس بنا پر یہ تفسیر مدرج ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے یہ تفسیر مروی ہے۔
مسند احمد میں حضرت حکیم بن حزام ؓ سے مرفوع روایت ہے کہ اللہ کا ہاتھ دینے والے کے اوپر اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے اوپر اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
(مسندأحمد: 402/3)
ایک روایت میں ہے کہ ہاتھ تین طرح کے ہیں:
اللہ کا ہاتھ سب سے اونچا، دینے والے کا ہاتھ اس سے متصل اور سوال کرنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔
(سنن أبي داود، الزکاة، حدیث: 1649)
ان تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ صدقہ وصول کرنے والا ہے۔
(فتح الباري: 375/3) (2)
امام بخاری ؒ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان کو صاحب دولت بن کر رہنا چاہیے۔
اپنے مال سے حق زکاۃ ادا کر کے کوشش کرے کہ اس کا ہاتھ اوپر رہے اور زندگی بھر کسی کے سامنے دست سوال پھیلا کر ذلت و رسوائی مول نہ لے، احتیاج اور ضرورت کے باوجود بھی دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے بلکہ صبر و استقلال سے کام لے کر اپنی خودداری کو قائم رکھے اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی قوت بازو کی محنت پر گزارہ کرے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1429]