علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب الصدقة على بني هاشم
باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا:حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، زَادَ" أَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ".
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1654]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی مانند مروی ہے، (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا کہ ”میرے والد نے مجھے بھیجا کہ آپ ان اونٹوں کو بدل دیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے «من الصدقة“ ”يبدلها» سے متعلق ہو گا، ناکہ «أعطاها» سے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1654 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1654
1654. اردو حاشیہ: علامہ خطابی کہتے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ صدقہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے حرام تھا۔۔۔۔اور حدیث مختصر ر وایت ہونے کے باعث اس میں اس سبب کا زکر نہیں آیا۔جس کی بناء پر انہیں یہ اونٹ دیے گئے تھے۔جوشاید یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ اونٹ اُدھار لیے تھے۔ اور جب واپس کیے تھے تو حقیقت میں وہ صدقے کے تھے۔ اور امام بہیقی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی کہنا ہے۔ کے اس روایت کے دو معنی ہیں۔۔۔۔ممکن ہے کہ یہ تحریم صدقہ سے پہلے کی بات ہو۔اور آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حرمت صدقہ بعد میں نازل ہوئی ہو۔ اور دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ شاید آپ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اونٹ مساکین کےلئے ادھار لئے تھے۔ جو بعد میں آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے واپس کیے۔(عون المعبود]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1654]
Sunan Abi Dawud Hadith 1654 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي