🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. باب الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ
باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1650
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ:" اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا"، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:"مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس نے ابورافع سے کہا: میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا غلام انہیں ۱؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1650]
ابن ابی رافع سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقات کے لیے مقرر کیا، اس نے ابورافع رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے ساتھ چلو، تمہیں بھی اس سے حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا: پہلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا مولیٰ (آزاد شدہ غلام) انہی میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 25 (657)، سنن النسائی/الزکاة 97 (2613)، (تحفة الأشراف:1650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/10، 390، 12018) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابو رافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کر دہ غلام تھے لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے، اس لئے ان کے لئے بھی صدقہ لینا جائز نہیں ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1829)
صححه ابن خزيمة (2344 وسنده صحيح) وللحديث شواھد عند البخاري (6761) ومسلم (1069)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1651
حَدَّثَنَا  مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا  شُعْبَةُ ، عَنْ  الْحَكَمِ ، عَنْ  ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ  أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: " اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا "، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: "مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1651]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی گری پڑی کھجور کے پاس سے گزرتے تو اس کو اٹھا لینے سے صرف اس لیے گریز کرتے کہ کہیں صدقے کی نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1160)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 4 (2055)، واللقطة 6 (2431)، صحیح مسلم/الزکاة 50 (1071)، مسند احمد (3/184، 192، 258) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (1652)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1652
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلْتُهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، هَكَذَا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور (پڑی) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1652]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی راستے میں) ایک کھجور پائی، تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے ہشام نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1165)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 50 (1071)، مسند احمد (3/291) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2055) صحيح مسلم (1071)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1653]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، ان اونٹوں کے سلسلے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ سے دیے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6344)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل 27 (1339)، مسند احمد (1/364) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عباس رضی اللہ عنہ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آ گئے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا:حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، زَادَ" أَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ".
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1654]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی مانند مروی ہے، (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا کہ میرے والد نے مجھے بھیجا کہ آپ ان اونٹوں کو بدل دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6350) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے «من الصدقة يبدلها» سے متعلق ہو گا، ناکہ «أعطاها» سے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں