علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب الصدقة على بني هاشم
باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1653]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”میرے والد نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، ان اونٹوں کے سلسلے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ سے دیے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6344)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل 27 (1339)، مسند احمد (1/364) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عباس رضی اللہ عنہ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آ گئے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1653
| بعثني أبي إلى النبي في إبل أعطاها إياه من الصدقة |
Sunan Abi Dawud Hadith 1653 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي