سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب فِي حُقُوقِ الْمَالِ
باب: مال کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1664
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ سورة التوبة آية 34، قَالَ: كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، فَانْطَلَقَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضْ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ لِتَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ"، فَكَبَّرَ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «والذين يكنزون الذهب والفضة» نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چنانچہ وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہو جائیں (جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے“، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1664]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ﴾ [سورة التوبة: 34] نازل ہوئی تو اس سے مسلمانوں کو بہت گرانی ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تمہاری مشکل دور کرتا ہوں“، چنانچہ وہ سب آئے اور انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ کے اصحاب کو یہ آیت بہت بھاری محسوس ہو رہی ہے“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض ہی اس لیے کی ہے کہ اس سے تمہارا بقیہ مال پاک ہو جائے۔ اور وراثت اس لیے فرض فرمائی ہے کہ تمہارے بعد والوں کو ملے۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ وہ کیا بہترین چیز ہے جو انسان خزانہ بناتا ہے؟“ فرمایا: ”وہ نیک صالحہ بیوی ہے، جب اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے، اسے کوئی بات کہے تو مان لے اور جب وہ غائب ہو تو اس (کے گھر، مال اور اپنی عفت) کی حفاظت کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6383) (ضعیف)» (اس کے راوی جعفر، مجاہد سے روایت میں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
غيلان :سمعه من عثمان بن عمير أبي اليقظان عن جعفر بن إياس به (رواه البيھقي 83/4)
وأبو اليقظان ضعيف مختلط مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
إسناده ضعيف
غيلان :سمعه من عثمان بن عمير أبي اليقظان عن جعفر بن إياس به (رواه البيھقي 83/4)
وأبو اليقظان ضعيف مختلط مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1664
| لم يفرض الزكاة إلا ليطيب ما بقي من أموالكم وإنما فرض المواريث لتكون لمن بعدكم فكبر عمر خير ما يكنز المرء المرأة الصالحة إذا نظر إليها سرته وإذا أمرها أطاعته وإذا غاب عنها حفظته |
Sunan Abi Dawud Hadith 1664 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي