🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب في حقوق المال
باب: مال کے حقوق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ عُبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَجَعَلَ يُصَرِّفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی فاضل (ضرورت سے زائد) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ اللقطة 4 (1728)، (تحفة الأشراف:4310)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/34) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1728)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥جعفر بن حيان السعدي، أبو الأشهب
Newجعفر بن حيان السعدي ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← جعفر بن حيان السعدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الله الخزاعي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الخزاعي ← موسى بن إسماعيل التبوذكي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4517
من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان له فضل من زاد فليعد به على من لا زاد له
سنن أبي داود
1663
من كان عنده فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان عنده فضل زاد فليعد به على من لا زاد له
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1663 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1663
1663. اردو حاشیہ:
➊ یہ اونٹنی والا جو اسے گھما رہا تھا شاید تھک گئی تھی۔ اور چلنے سے عاجز تھی۔ اس شخص نے یہ انداز اختیار کیا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھ لیں۔ اور کوئی دوسری عنایت فرمادیں۔
➋ انتہائی ضرورت اور تنگی کے احوال میں زائد مال محتاجوں تک پہنچانا جیسے کہ قحط میں ہوتا ہے۔واجب ہے۔اور عام حالات میں مستحب اور مندوب ہے اسی قسم کے ارشادات کی بنا پر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے جو غنی اور اصحاب وسعت تھے۔مال جمع رکھنے پر تکرار کیا کرتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1663]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4517
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے، اس دوران اچانک ایک آدمی اپنی سواری پر آیا اور اپنی نظر دائیں بائیں دوڑانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری کا اونٹ ہو تو وہ اس کے ذریعہ اس کی خیرخواہی کرے، جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس ضرورت سے زائد توشہ ہو، وہ اس کے ساتھ اس سے حسن سلوک کرے، جس کے پاس زادراہ نہیں ہے۔" حضرت ابو سعید ؓ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4517]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فَضل:
ضرورت سے زائد،
فالتو۔
(2)
فليَعُد به:
ضرورت مند پر اس کے ساتھ احسان کرے،
ہمدردی اور خیرخواہی کا اظہار کرے۔
فوائد ومسائل:
ایک انسان اونٹنی پر آیا جو تھکی ہاری ہوئی تھی،
اس لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر دائیں بائیں دیکھنے لگا اور اونٹنی بھی دائیں بائیں پھیری تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے سواری کا انتظام فرما دیں،
اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فالتو چیز سے ہمدردی اور خیرخواہی کرنے کی تلقین کی اور بعض حضرات نے یہ معنی کیا ہے کہ وہ فخر و مباہات کے اظہار کے لیے اونٹنی دائیں بائیں گھمانے لگا تاکہ یہ بات جتلا سکے،
میرے پاس بہت سی سواریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنانے کے لیے ساتھیوں کو خیرخواہی اور ہمدردی کرنے کی تلقین کی تاکہ وہ ضرورت سے زائد سواریوں کے ذریعہ ضرورت مندوں پر احسان کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4517]