علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب المحرم يتزوج
باب: محرم شادی کرے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1842
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، ويَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مِثْلَهُ، زَادَ:" وَلَا يَخْطُبُ".
اس سند سے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے «ولا يخطب» (نہ شادی کا پیغام دے) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1842]
جناب ابان بن عثمان، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث کے مثل ذکر کیا اور مزید کہا: ”اور نہ شادی کا پیغام دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9776) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: احرام کی حالت میں نہ تو محرم خود اپنا نکاح کر سکتا ہے نہ ہی دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے، عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس سلسلے میں قانون کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں کسی اور بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، رہا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان (جو حدیث نمبر: ۱۸۴۴ میں آرہا ہے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا تو یہ ان کا وہم ہے (دیکھئے نمبر: ۱۸۴۵)، خود ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا اور ان کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی اللہ عنہ کا بیان اس کے برعکس ہے کہ یہ نکاح مقام سرف میں حلال رہنے کی حالت میں ہوا، تو صاحب معاملہ کا بیان زیادہ معتبر ہوتا ہے، دراصل ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی (منی میں ذبح کیا جانے والا جانور) بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالاں کہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اس حالت میں ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کرکے ہدی بھیج دی اور گھر رہ گئے، اور بقول عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1841)
انظر الحديث السابق (1841)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1842 in Urdu
أبان بن عثمان الأموي ← عثمان بن عفان