🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب لحم الصيد للمحرم
باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةَ عُثْمَانَ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ طَعَامًا فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلَحْمِ الْوَحْشِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَجَاءَهُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْفُضُ الْخَبَطَ عَنْ يَدِهِ، فَقَالُوا لَهُ: كُلْ، فَقَالَ:" أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَإِنَّا حُرُمٌ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ.
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے (حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے) وہ کہتے ہیں حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں چکور ۱؎، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چنانچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا: کھاؤ، تو وہ کہنے لگے: لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں (احرام نہ باندھے ہوں) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا: میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1849]
اسحاق بن عبداللہ بن حارث اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جناب حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے طائف کے گورنر تھے۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانے کا اہتمام کیا اور اس میں چکوروں، جنگلی چڑیوں اور نیل گائے کا گوشت تیار کروایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا۔ قاصد جب ان کے پاس پہنچا تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے پتے جھاڑ رہے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے ہاتھ (پتوں کے گرد غبار سے) جھاڑتے ہوئے تشریف لائے۔ صاحبِ ضیافت نے ان سے کہا: کھائیے! تو انہوں نے جواب دیا: یہ کھانا ایسے لوگوں کو دے دیں جو احرام میں نہ ہوں، ہم تو احرام میں ہیں۔ تب انہوں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں قسم دے کر کہتا ہوں کہ قبیلہ اشجع میں سے کون یہاں ہے، کیا تم جانتے ہو کہ ایک شخص (حمار وحشی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالتِ احرام میں نیل گائے کا گوشت ہدیہ کیا تھا، تو آپ نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا تھا؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں (یہ بات حق اور سچ ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10165)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/100، 103) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیتر کے قسم کا ایک پہاڑی خوبصورت و خوش آواز پرندہ ہے، یہ چاندنی رات میں خوب چہچہاتا ہے اس لئے اسے چاند کا عاشق کہتے ہیں۔
۲؎: محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنا یا کھانا دونوں ممنوع ہے، اسی طرح اگر کسی غیر محرم آدمی نے خشکی کا شکار خاص کر محرم کے لئے کیا ہو تو بھی محرم کو اس کا کھانا ممنوع ہے، البتہ اگر حلال آدمی نے شکار اپنے لئے کیا ہو اور کسی محرم نے اس میں اشارہ کنایہ تک سے بھی تعاون نہیں کیا ہو، پھر اس میں سے کسی محرم کو ہدیہ پیش کیا ہو تو ایسے شکار کا کھانا جائز ہے، اس باب میں جتنی بھی روایات آئی ہیں ان سب کا یہی خلاصہ ہے، اور اس لحاظ سے ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حميد الطويل مدلس (طبقات المدلسين 3/71) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن عبد الله الهاشمي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن عبد الله الهاشمي ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
ثقة
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← إسحاق بن عبد الله الهاشمي
ثقة مدلس
👤←👥سليمان بن كثير العبدي، أبو محمد، أبو داود
Newسليمان بن كثير العبدي ← حميد بن أبي حميد الطويل
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سليمان بن كثير العبدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1849
أهدى إليه رجل حمار وحش وهو محرم فأبى أن يأكله قالوا نعم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1849 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1849
1849. اردو حاشیہ:
➊ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین میں بالخصوص خلفائے اربعہ میں انتہائی اخوت و مودت کے تعلقات تھے۔
➊ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حق بات بتانے اور کہنے میں کوئی بھی چیز مانع نہ ہوئی۔نہ تعلق خاطر اور نہ دوسروں کے مناصب حکومت۔
➌ قناعت کی جو تعلیم وتربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضوان اللہ عنہم اجمعین کو دی تھی۔وہ تمام عمر اسی پر کار بند رہے۔
➍ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ہی اپنے خادم تھے۔
➎ شکار جب اس نیت سے کیا گیا ہو کہ محرمین کی ضیافت کی جائے گی تو انہیں اس کا قبول کرناجائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1849]

Sunan Abi Dawud Hadith 1849 in Urdu