سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب الإحصار
باب: حج سے روک لیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِهَدْيٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الشَّامِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ، فَنَحَرْتُ الْهَدْيَ مَكَانِي ثُمَّ أَحْلَلْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لِأَقْضِيَ عُمْرَتِي، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" أَبْدِلِ الْهَدْيَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے، جب ہم اہل شام (مکہ کے محاصرین) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1864]
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری رحمہ اللہ کو سنا، وہ میرے والد میمون بن مہران رحمہ اللہ سے بیان کر رہے تھے کہ ”جس سال اہل شام نے مکہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کیا تھا، میں (ابوحاضر حمیری) عمرے کی غرض سے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ قوم کے کچھ افراد نے اپنی قربانیاں بھی بھیجی تھیں۔ جب ہم اہل شام کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا۔ چنانچہ میں نے قربانی اسی جگہ نحر کر دی اور پھر حلال ہو گیا اور واپس لوٹ آیا۔ پھر جب اگلا سال آیا اور میں اپنے عمرے کی قضا کے لیے چلا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”اپنی قربانی کا بدل بھی دو۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضا میں اپنے صحابہ سے فرمایا تھا کہ حدیبیہ کے سال انہوں نے جو قربانیاں کی تھیں ان کے عوض قربانیاں بھی کریں۔““ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5873) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2712)
محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند البيھقي في دلائل النبوة (4/ 320) و للحديث شاھد قوي عند الحاكم (1/ 485)
مشكوة المصابيح (2712)
محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند البيھقي في دلائل النبوة (4/ 320) و للحديث شاھد قوي عند الحاكم (1/ 485)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1864
| أمر أصحابه أن يبدلوا الهدي الذي نحروا عام الحديبية في عمرة القضاء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1864 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1864
1864. اردو حاشیہ: امام خطابی فرماتے ہیں۔کہ نفلی عمرے میں بدل ضروری نہیں۔البتہ واجب کئے ہوئے عمرے میں قربانی کا بدل ضروری ہوگا۔اور امام بہیقی ؒ کہتے ہیں کہ جس طرح دوبارہ عمرہ کرنا مستحب ہے اس طرح قربانی کابدل بھی مستحب ہے۔(عون المعبود]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1864]
Sunan Abi Dawud Hadith 1864 in Urdu
عثمان بن حاضر الأزدي ← عبد الله بن العباس القرشي