🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب أمر الصفا والمروة
باب: صفا اور مروہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ، قَالَ:" إِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1904]
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صفا اور مروہ کے درمیان پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ چل رہے ہیں جبکہ لوگ دوڑ رہے ہیں۔ (کیوں؟) انہوں نے کہا: اگر میں چلوں تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑوں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں (اب) بوڑھا ہو گیا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988)، (تحفة الأشراف: 7373، 7379)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/53) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
زھير بن معاوية سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه وكثير بن جمھان حسن الحديث وثقه الجمھور
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥كثير بن جمهان السلمي، أبو جعفر
Newكثير بن جمهان السلمي ← عبد الله بن عمر العدوي
مقبول
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← كثير بن جمهان السلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2979
إن أمش فقد رأيت رسول الله يمشي وإن أسع فقد رأيت رسول الله يسعى
سنن أبي داود
1904
إن أمش فقد رأيت رسول الله يمشي وإن أسع فقد رأيت رسول الله يسعى
سنن ابن ماجه
2988
إن أسع بين الصفا والمروة فقد رأيت رسول الله يسعى وإن أمش فقد رأيت رسول الله يمشي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1904 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1904
1904. اردو حاشیہ: یعنی صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا)چاہیے۔لیکن اگر کوئی بیماری یا شدید بڑھاپے کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو اس کے لئے چلنا بھی کفایت کرجائے گا۔واللہ اعلم۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1904]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2988
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2988]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صفاء اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں وادی میں (سبز نشانوں کے درمیان)
دوڑنا سنت ہے۔

(2)
اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو عام رفتار سے بھی سعی کا فرض ادا کرسکتا ہے۔

(3)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بڑھاپے کا ذکر کرکے اپنا عذر واضح کیا ہے۔
اس میں اشارہ ہے کہ عذر نہ ہوتو دوڑنا ہی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2988]

Sunan Abi Dawud Hadith 1904 in Urdu