سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : السعي بين الصفا والمروة
باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 56 (1904)، سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، (تحفة الأشراف: 7379)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 34 (130)، مسند احمد (2/53، 60، 61، 120)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کا یہ مطلب ہے کہ دوڑنا اور معمولی چال سے چلنا دونوں طرح سنت ہے، ا ور اگر چلنا سنت بھی ہو تب بھی چلنے میں میرے لیے حرج نہیں، اس لیے کہ میں ناتواں بوڑھا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2979
| إن أمش فقد رأيت رسول الله يمشي وإن أسع فقد رأيت رسول الله يسعى |
سنن أبي داود |
1904
| إن أمش فقد رأيت رسول الله يمشي وإن أسع فقد رأيت رسول الله يسعى |
سنن ابن ماجه |
2988
| إن أسع بين الصفا والمروة فقد رأيت رسول الله يسعى وإن أمش فقد رأيت رسول الله يمشي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2988 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2988
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صفاء اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں وادی میں (سبز نشانوں کے درمیان)
دوڑنا سنت ہے۔
(2)
اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو عام رفتار سے بھی سعی کا فرض ادا کرسکتا ہے۔
(3)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بڑھاپے کا ذکر کرکے اپنا عذر واضح کیا ہے۔
اس میں اشارہ ہے کہ عذر نہ ہوتو دوڑنا ہی چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
صفاء اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں وادی میں (سبز نشانوں کے درمیان)
دوڑنا سنت ہے۔
(2)
اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو عام رفتار سے بھی سعی کا فرض ادا کرسکتا ہے۔
(3)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بڑھاپے کا ذکر کرکے اپنا عذر واضح کیا ہے۔
اس میں اشارہ ہے کہ عذر نہ ہوتو دوڑنا ہی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2988]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1904
صفا اور مروہ کا بیان۔
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1904]
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1904]
1904. اردو حاشیہ: یعنی صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا)چاہیے۔لیکن اگر کوئی بیماری یا شدید بڑھاپے کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو اس کے لئے چلنا بھی کفایت کرجائے گا۔واللہ اعلم۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1904]
كثير بن جمهان السلمي ← عبد الله بن عمر العدوي