🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب النزول بمنى
باب: منیٰ میں اترنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1951
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ،عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، فَقَالَ:" لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا، وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ، وَ الْأَنْصَارُ هَا هُنَا، وَأَشَار إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ لِيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ".
عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا، اور انصار یہاں اتریں، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15629)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/61) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عبد الرحمن بن معاذ التيمي
Newعبد الرحمن بن معاذ التيمي ← اسم مبهم
صحابي
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عبد الرحمن بن معاذ التيمي
ثقة
👤←👥حميد بن قيس الأعرج، أبو صفوان، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن قيس الأعرج ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← حميد بن قيس الأعرج
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1957
بحصى الخذف أمر المهاجرين فنزلوا في مقدم المسجد أمر الأنصار فنزلوا من وراء المسجد نزل الناس بعد ذلك
سنن أبي داود
1951
لينزل المهاجرون ههنا وأشار إلى ميمنة القبلة الأنصار ههنا وأشار إلى ميسرة القبلة ثم لينزل الناس حولهم
سنن النسائى الصغرى
2999
بلغ الجمار فقال بحصى الخذف أمر المهاجرين أن ينزلوا في مقدم المسجد أمر الأنصار أن ينزلوا في مؤخر المسجد
مسندالحميدي
875
إذا رميتم الجمرة فارموها بمثل حصى الخذف
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1951 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1951
1951. اردو حاشیہ: یہ مقامات منی کی مسجد خیف سے قبلہ کی طرف دائیں اوربائیں مراد ہیں۔جیسے کہ آئندہ حدیث نمبر 1957میں آرہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1951]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1957
منیٰ کے خطبہ میں امام کیا بیان کرے؟
عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1957]
1957. اردو حاشیہ:
➊ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ دور کے لوگوں نے اپنی اپنی جگہ پر آپ کا خطبہ سن لیا
➋ شہادت کی انگلیاں رکھیں اس سے مراد یا تو یہ ہےکہ آپ نے آپنے کانوں میں رکھیں او ربلند آواز سے فرمایا۔ ابوداؤد کے ایک نسخہ سے اس معنی کی تائیدہوتی ہے اس میں «‏‏‏‏فی اذنیه)‎» کا اضافہ ہے۔ (نیل اوطار) یا ہو سکتا ہے کہ آپ نے انگوٹھوں کے درمیان اپنی انگلیاں رکھ کر اشار ہ فرمایا ہو کہ اس کی چھوٹی چھوٹی کنکریاں مارو۔ (بذل المجھول ]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1957]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2999
منیٰ کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں (بیٹھے) سن رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2999]
اردو حاشہ:
(1) کان کھول دیے یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ کی آواز پورے منیٰ میں سنائی دے رہی تھی، حالانکہ منیٰ میں کئی مربع میل ہے۔
(2) کنکریوں کی بات آئی اس جملے کا دوسرا ترجمہ یہ ہوگا حتی کہ آپ جمروں کے قریب پہنچے اور آپ نے خذف والی کنکریوں سے جمرات کو رمی کیا۔ دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔
(3) خذف کی کنکریاں یعنی چھوٹی چھوٹی جو کسی کو لگ بھی جائیں تو زخم ہو نہ چوٹ آئے۔ بچے ایسی کنکریوں کے ساتھ نشانہ بازی کی مشق کیا کرتے تھے۔ یہ دو انگلیوں کے درمیان پکڑ کر آسانی سے پھینکی جا سکتی تھیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2999]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:875
875- سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابن معاذ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں کو ان کی پڑاؤ کی جگہ پر پڑاؤ کرنے کی ہدایت کی، تو مہاجر ین اور انصار نے اپنی مخصوص گھاٹیوں میں پڑاؤ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دی۔ راوی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ہماری سماعت کو کھول دیا تو ہم نے اپنے پڑاؤ کی جگہ پر رہتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو تعلیم دی اس میں یہ بات بھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم جمرہ کی رمی کرو تو ایسی کنکر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:875]
فائدہ:
کان کھول دیے۔ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پورے منٰی میں سنائی دے رہی تھی، حالانکہ منٰی کئی مربع میل ہے۔ خذف کی کنکریاں یعنی چھوٹی چھوٹی جو کسی کو لگ جائیں تو زخم نہ ہو، نہ چوٹ آئے۔ یہ دوانگلیوں کے درمیان پکڑ کر آسانی سے پھینکی جاسکتی تھیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 874]